Urdu Class 9th Unit 6 MCQs Short Long Questions Notes

urdu 9th notes Sabaq No 6

1.  خالہ جان اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی بات نہیں سن سکتی تھیں۔

 
 
 
 

2. سبق “پنچایت ” کے مصنف ہیں۔

 
 
 
 

3. بند ” کا متضاد ہے

 
 
 
 

4. بیل” کی مونث ہے

 
 
 
 

5. مترادف کی درست فہرست ہے

 
 
 
 

6. سبزوں کی لہلہاہٹ

 
 
 
 

7. شیخ جمعراتی زیادہ قائل تھے۔

 
 
 
 

8.  جمن نے وعدے وعید کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دکھا کر خالہ اماں سے وہ ملکیت اپنے نام کر الی تھی۔

 
 
 
 

9.  شیخ جمن کو بھی اپنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذمے داری کا احساس ہوا۔

 
 
 
 

10. خالہ جان نہیں سن سکتی تھیں

 
 
 
 

11. خالی جگہ میں مناسب واحد لگائیں ۔ “آج__________ ہورہا ہے۔

 
 
 
 

12. دلِ ناداں تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” مصرع مکمل کریں۔

 
 
 
 

13. الگو آدمی تھا۔

 
 
 
 

14. بوڑھی خالہ چکر لگاتی رہی آس پاس کے

 
 
 
 

15.  جمن شیخ اورا لگو چودھری میں بڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔

 
 
 
 

16.  بوڑھی خالہ نے اپنی دانست میں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

 
 
 
 

17.  جمن جب حج کرنے گئے تھے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الگو کو سونپ گئے تھے۔

 
 
 
 

18. جمن نے بے اعتنائی سے کہا کیا یہاں روپیا ۔

 
 
 
 

19.  شیخ جمعراتی خوددعا اور فیض کے مقابلے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے زیادہ قائل تھے۔

 
 
 
 

20. الگو نے کہا ” میں پنچایت میں نہ کھولوں گا 

 
 
 
 

21.  دوستی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درخت پھر سے ہرا ہو گیا۔

 
 
 
 

22. طالب” کی جمع ہے

 
 
 
 

23.  ان کے باپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے آدمی تھے۔

 
 
 
 

24. بادل ہوا کے اُوپر ہو مست۔

 
 
 
 

Short Questions

 اجمن شیخ اور الگو چودھری میں دوستی کاآغاز کب ہوا؟
 الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ نے کون سا تنازعہ پنچایت کے سامنے پیش کیا؟
 الگو چودھری تعلیم کے مقابلے میں کس چیز پر زیادہ بھروسا رکر تے تھے؟
 الگو چودھری کے پنچ مقرر ہونے پر شیخ جمن کیوں خوش تھا؟
 الگو چودھری نے سمجھو سیٹھ کو بیل کیوں فروخت کیا؟
 الگو چوہدری اور سمجھو سیٹھ نے کون سا تنازعہ پنچایت کے سامنے پیش کیا؟
 الگو چوہدری کا فیصلہ سن کر شیخ جمن کا کیا ردِ عمل تھا؟
 الگو چوہدری کے پنچ مقرر ہونے شیخ جمن کیوں خوش تھا؟
 الگو چوہدری نے سمجھو سیٹھ کو بیل کیوں فروخت کیا؟
 الگو چوہدری نے کیا فیصلہ سنایا؟
 جمن شیخ اور الگو چوہدری میں دوستی کا آغاز کب ہوا؟
 خالہ نے جمن کو کس بات کی دھمکی دی؟
 سمجھو سیٹھ نے الگو چوہدری سے خریدے ہوئے بیل کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟
 شیخ جمعراتی دُعا اور فیض کے مقابلے میں کس چیز کے زیادہ قائل تھے؟
 شیخ جمن کی بیوی کا خالہ کی ملکیت کے ہبہ نامے کی رجسٹری کے بعد خالہ سے کیسا سلوک تھا؟
 شیخ جمن نے فیصلہ سناتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو کہا تک پورا کیا؟
 شیخ جمن نے فیصلہ سناتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو کہاں تک پورا کیا؟
 لگو چودھری کا فیصلہ سن کر شیخ جمن کا کیا ردِعمل تھا؟
 لگو چودھری نے کیا فیصلہ سنایا؟
پنچایت کے بارے میں جمن نے کیا کہا؟ 
جمن شیخ اور الگو چودھری میں دوستی کاآغاز کب ہوا ؟
جمن شیخ نے فیصلہ سناتے ہوئے انصاف کے اصولوں کو کہاں تک پورا کیا ؟
جمن نے الگو چودھری کا بیل مر جانے پر کیا کہا ؟
جمن نے خالہ جان کے روپے مانگنے پر کیا جواب دیا ؟
جمن نے کیسےخالہ جان سے ملکیت اپنے نام کرالی تھی ؟
سمجھو سیٹھ نے الگو چودھری کے ساتھ خریدے بیل کے ساتھ کیسا سلوک کیا ؟
سیٹھ سمجھو نے اپنا سر پنچ کسے بنایا ؟
شیخ جمن کی بیوی کا خالہ کی ملکیت کے ہبہ نامے کی رجسڑی کے بعد خالہ سے کیسا سلوک تھا ؟

Long Questions

 

سبق پنچایت کا خلاصہ لکھیں؟
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

           شیخ جمن کو بھی اپنی عظیم الشان ذمے داری کا احساس ہوا۔ اس نے سوچا ،میں اس وقت انصاف کی اونچی مسند پر بیٹھا ہوں ۔ میری آواز اس وقت حکم خدا ہے اور خدا کے حکم میں میری نیت کو مطلق دخل نہ ہونا چاہیے ۔ حق اور راستی سے خو بھر ٹلنا بھی سمجھے دنیا اور دین ہی میں سیاہ بنا دے گا ۔ “
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

           ایک بار وہ بھی بگڑے ،سیٹھ جی گرم ہو پڑے ۔ سیٹھانی جی جذبے کے مارے گھر سے نکل پڑیں ۔ سوال و جواب ہونے لگے ۔ خوب مباحثہ ہوا ، مجادلے کی نویت آپہنچی۔ سیٹھ جی نے گھر میں گُھس کر کواڑ بند کر لیے ۔ گاؤ کے کئی معزز آدمی جمع ہو گئے ۔ دونوں فریق کو سمجھایا ۔سیٹھ سمجھو کو دلاسا دے کر گھر سے نکالا اور صلاح دی کہ آپس میں سر پھٹول سے کام نہ چلے گا ۔ اس سے کیا فائدہ ،پنچایت کر لو جو کچھ طے ہو جائے اسے مان جاؤ۔ سیٹھ جی راضی ہو گئے ، الگو نے بھی حامی بھر لی”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔
 
          یہ دغا بازی کی سزا ہے ۔ انسان صبر کر جائے ، مگر خدا نیک و بد دیکھتا ہے ۔ الگو کو اندیشہ ہوا کہ جمن نے اسے زہر دلوایا ہے ۔ اس کے بر عکس چودھرائن کا خیال تھا کہ اس پر کچھ گرایا یگا ہے ۔چودھرائن اور فہمین میں ایک دن زور و شور سے ٹھنی دونوں خواتین نے روایتی بیان کی ندی بہادی ۔  “
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔
 
          جرح ختم ہونے کے بعد الگو نے فیصلہ سنا یا ۔ لہجہ نہایت سنگین او رتحکمانہ تھا : شیخ جمن ! پنچوں نے اس معاملے پر بہت اچھی طرح غور کیا ۔زیادتی سراسر تمہا ری ہے ۔ کھیتوں سے معقول نفع ہوتا ہے ۔ تمہیں چاہیے کہ خالہ جان کے ماہوار گزارے کا بندوبست کرودو ۔ اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں اگر تمہیں یہ منظور نہیں ،تو ہبہ نامہ منسوخ ہو جائے گا ۔ جمن نے فیصلہ سنا اور سناٹے میں آگیا ۔ احباب سے کہنے لگا : ’’بھئی ! اس زمانے میں یہی دوستی ہے کہ جو اپنے اوپر بھروسا کرے ، ان کی گردن پر چھری پھیری جائے ‘‘۔”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

           ’’پنچو! آج تین سال ہوئے ، میں نے اپنی سب جائیداد اپنے بھانجے جمن کے نام لکھ دی تھی، اسے آپ لوگ جانتے ہوں گے ۔ جمن نے مجھے تاحین حیات  روٹی کپڑا دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ سال چھے مہینے تو میں نے ان کے ساتھ رو دھوکر کاٹے مگر اب مجھ سے رات دن کا رونا سہا نہیں جاتا ۔ مجھے پیٹ بھرنے کے لیے روٹیاں تک نہیں ملتیں ۔ بے کس بیوہ ہوں ۔ تھانہ کچہری کر نہیں سکتی ، سوائے تم لوگوں کے اور کس سے اپنا دکھ درد بیان کروں ۔ تم لوگ جو راہ نکال دو ، اس راہ پر چلوں اگر میری برائی دیکھو ،میرے منہ پر تھپڑ مارو ، جمن کی برائی دیکھو ،تو اسے سمجھاؤ۔”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔
  
         اس کے بعد کئی دن تک بوڑھی خالہ لکڑی لیے ،آس پاس ے گاؤں کے چکر لگاتی رہیں۔ کمر جھک کر کمان ہو گئی ۔ ایک قدم چلنا مشکل تھا ۔ مگر بات یہ پڑی تھی ، اس کا تصفیہ  ضروری تھا ۔ شیخ جمن کو اپنی طاقت رسوخ اور منطق پر کامل اعتماد تھا ۔ وہ کسی کے سامنے فریاد کرنے نہیں گئے۔”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

           پنچایت کی صدا کس کے حق میں اٹھے گی ؟ اس کے متعلق شیخ جمن کو اندیشہ نہیں تھا ۔ قرب و حوار میں ایسا کون تھا ،جو ان کو شرمندہ منت نہ ہو ؟ کون تھا جو ان کی دشمنی کو حقیر سمجھے ؟ کس میں اتنی جرأت تھی جو ان کے سامنے کھڑا ہو سکے ؟ آسمان کے فرشتے تو پنچایت کرنے آئیں گے نہیں۔”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔
 
          استاد کی دعا چاہیے ، جو کچھ ہوتا ہے ،فیض سے ہوتا ہے اور اگر الگو پر استاد کے فیض یا دعاؤں کا اثر نہ ہوتا ، تو اسے تسکین تھی کہ تحصیل علم کو کوئی دقیقہ اس نے فرد گذاشت نہیں کیا ۔ علم اس کی تقدیر میں نہ تھا ۔ شیخ جمعراتی خود دعا اور فیض کے مقابلے میں تازیانے کے زیادہ قائل تھے ۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *