Urdu Class 9th Unit 5 MCQs Short Long Questions Notes

urdu 9th notes Sabaq No 5

1.  سلیم ڈرتا ڈرتا کہاں گیا؟

 
 
 
 

2.  اکثر کون گھبرایا کرتا ہے؟

 
 
 
 

3. سلیم کو پسند نہ تھا

 
 
 
 

4.  سلیم کی عمر اس وقت کچھ کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی تھی۔

 
 
 
 

5. کھانا” کا متضاد ہے ۔

 
 
 
 

6.  سلیم کو کس نے آکر جگایا؟

 
 
 
 

7. والدین ” کا واحد ہے ۔

 
 
 
 

8. شطرنج میں طبیت پرزور پڑتا ہے اور گنجفہ میں ۔

 
 
 
 

9.  میاں اکیلے بیٹھے ہوئے کیا کررہے تھے؟

 
 
 
 

10. سبق “نصوح اور سلیم کی گفتگو” کے مصنف کا نام ہے ؟

 
 
 
 

11. دلی میں ایک سال سخت وبا آئی ۔

 
 
 
 

12. مترادف کی درست فہرست ہے

 
 
 
 

13.  ماں کی گود میں کون سویا ہوا تھا؟

 
 
 
 

14. نظم “برسات کی بہاریں ” کے شاعر کا نام ہے ۔

 
 
 
 

15. ہیں اس ہوا میں کیا گیا”

 
 
 
 

16. سلیم کی عمر تھی کچھ کم

 
 
 
 

17.  میں اوپر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لینے گئی تھی۔

 
 
 
 

18. نصوح مبتلا ہوا تھا۔

 
 
 
 

19. ماں ” کا مذکر ہے ۔

 
 
 
 

20. آتش نے ہمیشہ کس کی وصف لکھے۔

 
 
 
 

21.  کھیل کے پیچھے کو دیوانہ بنا رہتا تھا؟

 
 
 
 

22. خالی جگہ میں مناسب جمع لگائیں ۔” __________ کی مدد کرنی چاہیے”۔

 
 
 
 

23. ڈپٹی نذیر احمد اُردو کے پہلے ۔

 
 
 
 

Short Questions

 باپکی بات سن کر سلیم نے کیا جواب دیا؟
 بھائی جان کاامتحان کب شروع ہونے والا تھا؟
 بیدار نے سلیم کو جگا کرکیاپیغام دیا؟
 بیدارا چھت پر کیوں گئی تھی؟
 بیدارا نے سلیم کو جگا کر کیا پیغام دیا؟
 جس وقت نصوح نے اپنے بیٹے سلیم کوگفتگو کے لیے اپنے پاس بلایا اس وقت سلیم کی عمر کیاتھی؟
 حضرت بی کون تھیں اور انہوں نے سلیم کو کیا نصیحت کی؟
 سلیم اپنے بھائی کے ساتھ مدرسے کیوں نہیں جاتا تھا؟
 سلیم کے باپ نے سلیم سے سب سے پہلے کیا پوچھا؟
 سلیم کی ما ں نے سلیم کے ساتھ نصوح کے پاس جانے سے کیوں انکار کر دیا؟
 سلیم نے چار لڑکوں کیا خوبیاں بیاں کیں؟
 میاں چھت پر اکیلے بیٹھے کیا کر رہے تھے؟
بیدار بالا خانے کیا لینے گئی تھی ؟
بیدار نے سلیم کو جگا کر کیا پیغام دیا ؟
حضر ت بی کون تھیں اور انھوں نے سلیم کو کیا نصحیت کی ؟
خواب سے بیدار ہو کر نصوح کو کس بات پر افسوس ہوا ؟
دِلّی میں کیسی وبا آئی تھی ؟
سلیم اپنے بھائی کے ساتھ مدرسے کیوں نہیں جاتا تھا ؟
سلیم کا ہم جماعت کون سا لڑکا تھا ؟
سلیم کی ماں نے سلیم کے ساتھ نصوح کے پاس جانے سے کیوں انکار کیا ؟
سلیم نے چار لڑکوں کی کا خوبیاں بیان کیں ؟
سلیم نے طلب کی خبر سن کر ماں سے کیا پوچھا ؟
سیلم اُوپر کیوں گیا تھا ؟
شطرنج اور گنجفے میں کس پر زور پڑتا ہے ؟
شطرنج کے بارے میں سلیم نے کیا بتایا ؟
کھیل کے بارے میں سلیم نے کیا کہا ؟
ماں کی گود میں کون سو یا ہوا تھا ؟
نصوح اور سلیم کی گفتگو ‘کا اقتباس کس ناول سے لیا گیا ہے اور اس کے مصنف کون ہیں

Long Questions

سبق نصوح اور سلیم کی گفتگو کا خلاصہ لکھیں
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

چونکہ میرے بچوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو اس سبب سے مجھ کو بتادین ضرور تھا۔ اس کے بعد حضرت بی نے مجھ کو مٹھائی دی اور بڑا اصرار کر کے کھلائی۔ مدتوں میں ان کے گھر جاتا رہا۔ حضرت بی بھی مجھ کو اپنے نواسوں کی طرح چاہنے اور پیار کرنے لگیں اور مجھ کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتی تھیں۔ تبھی سے میرادل تمام کھیل کی باتوں سے کھٹا ہو گیا۔”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

منجھلا لڑکامیر اہم جماعت ہے ۔ ایک دن آموخت یادنہ تھا۔ مولوی صاحب نہایت ناخوش ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے فرمایا کہ کم بخت گھر سے گھر ملا ہے ۔ اس کے پاس جا کر یاد کر لیا کر۔ میں نے پوچھا: کیوں صاحب یاد کرادیا کرو گے ؟ تو کہا: یہ سرو چشم ۔ غرض میں اگلے دن ان کے گھر گیا، آواز دی انھوں نے مجھ کو اندر بلالیا۔”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

دیکھا کہ ایک بہت بوڑھی سی عورت تخت پر جائے نماز بچھائے قبلہ رو بیٹھی ہوئی کچھ پڑھ رہی ہیں۔ وہ ان لڑکوں کی نانی ہیں۔ میں سیدھا سامنے لان میں اپنے ہم جماعت کے پاس جا بیٹھا جب حضرت نبی اپنے پڑھنے سے فارغ ہوئیں تو انھوں نے مجھ سے کہا بیٹا ! گو تم نے مجھ کو سلام نہیں کیا لیکن ضرور ہے کہ میں تم کو دعا دوں ۔ جیتے رہو، عمر دارز، خدا نیک ہدایت دے اور فور میں نے اٹھ کر نہایت ادب کے ساتھ سلام کیا۔”
“درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام یا عنوان، مصنف کا نام اور خط کشیدہ الفاظ کے معانی بھی لکھیں۔

جناب کچھ عجب عادت ہے ان لڑکوں کی ۔ راہ چلتے ہیں، تو گردن نیچی کیے ہوئے۔ اپنے سے بڑامل جائے ، جان پہچان ہو یا نہ ہو، ان کو سلام کر لینا ضرور۔ کئی برس سے اس محلے میں رہتے ہیں ، مگر کانوں کان خبر نہیں ہے ۔ محلے میں کوڑیوں لڑ کے بھرے پڑے ہیں ۔ لیکن ان کو کسی سے کچھ واسطہ نہیں ۔ آپس میں اوپر تلے کے چاروں بھائی ہیں ۔ نہ کبھی لڑتے نہ کبھی جھگڑ تے نہ گالی بکتے ،نہ قسم کھاتے ، نہ جھوٹ بولتے ، نہ کسی کو چھٹر تے ، نہ کسی پر آواز کستے ۔”

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *