Urdu Class 10th Paristan ki Shahzadi Notes MCQs Questions Bank

urdu 10th notes Sabaq 5

1.  قلعے کی بڑی بڑی مغلانیاں، سیدانی بی کے سامنے 

 
 
 
 

2. شہزادی ہنسی اور بولی اماں بیگم، بکر گدھا موا بڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے

 
 
 
 

3. بادشاہ بیگم کے پہلو میں ایک لڑکی جو کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برس کی 

 
 
 
 

4.  آوازیں تھیں کہ جیسے کوئلیں کو کیں، ناچ تھا کہ ہوا میں جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اڑا دیتی تھیں 

 
 
 
 

5. شہزادی کہنے لگی ’’سیدانی بی‘‘! جیسا سنا تھا کہ آدم زاد بڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتا ہے 

 
 
 
 

6. اشرف صبوحی کا اصل نام تھا 

 
 
 
 

7. چلتے چلتے ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں پہنچے 

 
 
 
 

8. سیدانی بی کو کھانے میں مرغوب تھا 

 
 
 
 

9. اشرف صبوحی قیام پاکستان کے بعد منتقل ہوئے 

 
 
 
 

10. اشرف صبوحی کا قلمی نام تھا 

 
 
 
 

11. سبق ’’پرستان کی شہزادی‘‘ کس مصنف کی تحریر ہے؟ 

 
 
 
 

12. مشہور تھا کہ سیدانی بی گئی تھیں 

 
 
 
 

13. ورنہ تیرے میرے کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی 

 
 
 
 

14. اشرف صبوحی ملازمت سے کب سیکدوش ہوئے

 
 
 
 

15. اشرف صبوحی نے کن کتابوں کا کس زبان میں ترجمہ کیا 

 
 
 
 

16.  پرستان سے سیدانی بی کو انعام میں کیا ملا؟ 

 
 
 
 

17. پرستان میں پھل دار پودے بڑے تھے 

 
 
 
 

18.  پرستان کے بادشاہ نے سیدانی بی کو بلایا تھا 

 
 
 
 

19. اشرف صبوحی کہاں پیدا ہوئے 

 
 
 
 

20. سیدانی بی نے جو دیکھا تو جنگل کر رہا تھا 

 
 
 
 

21. اشرف صبوحی کب پیدا ہوئے 

 
 
 
 

مختصر سوالات

“مندرجہ ذیل الفاط کے متضاد تحریر کریں۔ 
  لطیف،    شب،    خشک،    جفت،    شیریں،   نشیب،    تریاق “
 سیدانی بی نے کہا کہ صبح ہونے دیجئیے، اس پر بادشاہ بیگم نے کیا کہا؟ 
شہزادی کی باتیں سن کر سیدانی بی کو کیا شبہ ہوا؟ اور بادشاہ بیگم نے کیا جواب دیا؟ 
 سیدانی بی کے اوسان خطا ہونے پر شہزادی نے کیا کہا؟ 
 میر صاحب کی بیوی نے جب پرستان کے بارے پوچھا تو سیدانی بی نے کیا کہا؟ 
 سیدانی بی نے مغلانی کا پیشہ کیوں اختیار کیا؟ 
 اشرف صبوحی کی تصانیف بیان کریں؟ 
 اشرف صبوحی نے میٹرک کب اور کہاں سے پاس کیا؟ 
 اشرف صبوحی کا اصل نام اور قلمی نام لکھیں؟ 
ذو معنی الفاظ 
پرستان کے پھلوں کی خاص بات کیا تھی؟ 
بادشاہ بیگم کا اصلی نام کیا تھا؟ 
پرستان کے بادشاہ نے سیدانی بی کو کس کام کے لئے بلوایا تھا؟ 
 میر صاحب اور اُن کی بیوی سیدانی بی کی کس بات پر خوش تھے؟
سیدانی بی نے گزر اوقات کے لئے کون سا پیشہ اختیار کیا؟     

تفصیلی سوالات

“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
سنا ہے کہ یہ نہایت شریف گھرانے کی بیٹی تھیں ۔ مرہٹہ گردی میں ان کا خاندان تباہ ہو گیا۔ برس دن کی بیاہی بیوہ ہوگئیں۔ اس زمانے میں دوسری شادی کرنا بڑا عیب سمجھا جاتا تھا۔ مغلانی کا پیشہ اختیار کرلیا اور اپنی ہنرمندی کی بدولت رنڈا پا گزاردیا۔ جوانی تو عزت آبرو سے کٹ گئی ،خوب کمایا، ہزاروں روپے انعام میں لیے گر رکھنا نہ جاتا۔ دل کی حاتم اور طبیعت کی نرم تھیں اور پرانے شریفوں میں ایک یہی عیب ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قدر نہیں کرتے ۔ خدا کی بے نیازی کو بھول جاتے ہیں”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
ایک دن سردیوں کی رات تھی ۔ دالانوں کے پردے پڑے ہوئے تھے، چھوٹے بچے لحافوں میں ڈکے اور بڑے لڑ کے، لڑکیاں انگیٹھی کے چاروں طرف بیٹھے کہانی سن رہے تھے ، اتنے میں میر صاحب کی بیوی نماز وظیفے سے فارغ ہوکر آئیں ۔اتفاق سے کہانی بھی انڈاشہرادی کی تھی ۔ جب یہ کر آیا کہ کانڑے دیو کی جوشہزادی پر نظر پڑی تو سوتی کو پانگ سمیت اڑا کر لے گیا، کہنے لگیں سیدانی بی ! یہ جولوگ کہتے ہیں کہ تمہیں بھی پرستان کے بادشاہ کا کوئی آدمی پرستان لے گیا تھا اور تم وہاں سے بڑا انعام واکرام لائی تھیں، کیا یہ سچ ہے؟‘‘”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
اب جو دیکھتی ہوں، تو جنگل سائیں سائیں کر رہا ہے اور پینیس کو جیسے پسے لگے ہوئے ہیں ، اڑی چلی جا رہی ہے ۔ کلیجہ دھک سے ہو گیا۔ بدن میں سنسنیاں آنے لگیں ۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے کہ یہ کیا فغضب ہوا۔ سیموۓ کہار کہاں لیے جاتے ہیں ؟ اس جنگل میں کون ہی سرکار ہے؟ لیکن مرتا کیا نہ کرتا دل کڑا کر کے میں نے اپنی آواز نکالی اور پوچھا اے کم بختو منہ سے تو چھوٹو ، مجھے کہاں لے جاؤ گے؟ ارے وہ تمھاری کون سی ستیا ناسی سرکار ہے؟‘‘”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
ساتھ ہی پان کا بھی خیال آیا۔ میں پان آج بھی بہت کم کھاتی ہوں لیکن کھانا کھا کر دو وقت تو ضرور کھانے کی عادت ہے ۔ اب جو پتا تو ترقی ہوں ، تو پان کی خوش یو منھ میں جو رکھا، تو یہ معلوم ہوا کہ عطردان میں رکھی ہوئی گلوری کتے میں آ گئی ۔ کہتے ہیں کہ محمد اور گلے کی کا ایسا پان کھاتی تھی ، لال قلعے میں تو اس سے پہلے ، نہ اس کے بعد کسی کو نصیب ہوا مگر میں کہتی ہوں کہ اگر وہ پرستان کے اس پتے کو ایک دفعہ صرف سونگھ لیتی تو ساری عمر سر دھنتی رہتی ۔مشک وعنبر پڑے ہوئے کتھے اور نیچے موتیوں کے ہونے کا پان بھی اس کے آگے بے حقیقت ہے ۔ جب سانس لیتی تھی بنی سے نئی خوش بو کی لپٹیں آتی تھیں ۔”
سبق پرستان کی شہزادی کا خلاصہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *