Urdu Class 10th Khatoot e Rasheed Ahmad Sadiqi Notes MCQs Questions Bank

urdu 10th notes Sabaq 14

1. رشید احمد صدیقی پیدا ہوئے۔

 
 
 
 

2. رشید احمد صدیقی نے خطوط کس شہر سے بھجوائے۔

 
 
 
 

3. رشید احمد صدیقی ابتدائی تعلیم کے بعد چلے گئے۔

 
 
 
 

4. مکتوب نگار نے اپنے خط بنام ڈاکٹر محمد حسن میں کس خوش خبری کا ذکر کیا ہے؟

 
 
 
 

5. رشید احمد صدیقی نے 1921 میں ایم ۔اے اردوکیا۔

 
 
 
 

6. رشید احمد صدیقی نے انٹر نس پاس کیا۔

 
 
 
 

7.  خط بنام پروفیسر بشیر الدین میں کن لوگوں کی احترام کرنے کی صلاحیت سے محرومی کا ذکر کیا گیا ہے۔

 
 
 
 

8. رشید احمد صدیقی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں  لیکچرار ہوگئے۔

 
 
 
 

9. ’’بہت کچھ اور لکھنا چاہتا تھا لیکن تھک گیا‘‘ صدیقی صاحب نے یہ جملہ کس کے نام لکھا؟

 
 
 
 

10. رشید احمد صدیقی کی پیدائش ہوئی۔

 
 
 
 

11. رشید احمد صدیقی نے ایم ۔اے اردو کیا۔

 
 
 
 

12. رشید احمد صدیقی نے خط میں کس کے سانحہ رحلت کا ذکر کیا ہے؟

 
 
 
 

13. رشید احمد صدیقی نے خط میں کس کے گراں بار احسانات کا شکریہ ادا کیا۔

 
 
 
 

مختصر سوالات

رشید احمد صدیقی کہاں لیکچرار ہوئے۔کب اور کس عہد ے سے ریٹائر ہوئے؟
رشید احمد نے ایم ۔اے کب ، کہاں اور کس میں کیا؟
رشید احمد نے انٹر اور بی۔اے کیسے کیا؟
رشید احمد صدیقی نے انٹر نس کب اور کہاں سے پاس کیا؟
رشید احمد صدیقی کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
ڈاکٹر محمد حسن کا شکریہ کس بات پر ادا کیا گیا ہے؟
ظہیر احمد صدیقی کے نام مکتوب میں کس شخصیت کی وفات پر اظہار تعزیت کیا گیا؟
خطوط کا جواب عموماً “ہم روزہ دیتا ہوں”اس سے کیا مراد ہے؟
رشید احمد صدیقی کے پہلے خط کا مخاطب کون ہے؟

تفصیلی سوالات

“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
سوچتا ہوں ، جب سے ہم دونوں کا ایک دوسرے سے سابقہ ہوا، آپ کی خدمات (احسانات ) کی تعداد، مقدار اور قدرو قیمت میری ان چھوٹی موٹی باتوں سے کہیں زیادہ ہیں ، جو آپ کے لیے میں نے کبھی کبھار کی ہوں گی ۔ آپ کی شرافت ، قابلیت اور دیرینہ وضع داری کا مجھے جواحساس ہے،میرا خیال ہے کہ آپ کے لیے کسی دوست عزیز اور بزرگ سے کم نہیں ہے ۔ان نظام خطبات کو شہرت دینے اور کامیاب بنانے میں آپ کا گراں قد رحصہ ہے ۔ اللہ تعالی آپ کو خوش ، نیک نام اوراقبال مند رکھے،آمین ۔”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
مولانا ضیااحمد صاحب مرحوم آپ کے والد محترم میرے اور کتنے ہی دوسروں کے رفیق و شفیق تھے۔ مرحوم کے سانحۂ رحلت پر آپ کو اور ہم سب کو جو صدمہ ہوا ہے ، اس کا اندازہ ہم سے ، آپ سے زیادہ اور کس کو ہوسکتا ہے ۔ مرحوم کے سایہ شفقت میں آپ زندگی کے معظمات سے بہرہ مند ہوئے اور سب کی نظروں میں ممتاز ومفتخرہیں کتنی بڑی یہ سعادت آپ کو نصیب ہوئی ۔”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
میرا خیال ہے کہ مرحوم سے شاید ہی کبھی کسی شخص کو تکلیف پہنچی ہو۔ شریف شخص کی یہ صفت سب سے معتبر مانی گئی ہے ۔ اردو، فارسی اور عربی ادبیات پر مرحوم کی نظر بڑی گہری ، وسیع اور متنوع تھی جس کے ہم سب ہمیشہ معترف رہے اور اس سے استفادہ کیا۔ناملائم الفاظ کبھی زبان پر نہیں لائے ۔ بڑے شوق اور سنجیدگی سے علمی مسائل پر اظہار خیال فرماتے ۔ مرحوم کی مفارقت سے مشرقی ادب اور آداب کی محفل میں جو جگہ خالی ہوئی ہے، وہ مستقبل قریب میں شاید ہی پر ہو سکے گی ۔اللہ تعالی مرحوم کو سایہ رحمت میں جگہ دے اور ہم سب کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
آپ نے خود اپنے ، اپنے مطالعے ، اپنے اشغال علی گڑھ کی زندگی اور الہ آباد کے موجودہ شب و روز کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ، اس کی تصدیق کرتا ہوں ، اس لیے کہ زمانہ اور زندگی کے تقریباً اسی طرح کے سرد وگرم سے میں بھی گزر رہا ہوں ۔ کچھ احوال بدلے ہوۓ ملیں گے لیکن ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
سبق خطوط رشید احمد صدیقی کا خلاصہ لکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *