Urdu Class 10th Istanbul Notes MCQs Questions Bank

urdu 10th notes Sabaq 12

1. ترکی کے سلطان کا بیٹا سلطان محمد فاتح کتنے برس کی عمر میں تخت پر بیٹھا۔

 
 
 
 

2. احمد ندیم قاسمی نے قتل قرار دیا:

 
 
 
 

3. مسجد سلیمانیہ کی تعمیر مکمل ہوئی۔

 
 
 
 

4. استنبول میں فوجی عجائب گھر کا نام ہے۔

 
 
 
 

5. حکیم محمد سعید نے ۔۔۔۔۔عمر میں ناظرہ قرآن پاک پرھ لیا۔

 
 
 
 

6. طیبہ کالج دہلی سے طب کی تعلیم مکمل کی۔

 
 
 
 

7. مسجد سلیمانیہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

 
 
 
 

8. حکیم محمد سعید نے عمر میں والدہ کے ہمراہ حج کی سعادت حا صل کی۔

 
 
 
 

9. حکیم محمد سعید پیدا ہوئے۔

 
 
 
 

10. استنبول پر مسلمانوں کا پہلا حملہ ہوا تھا۔

 
 
 
 

11. استنبول ایک شہر ہے؟

 
 
 
 

12. حکیم محمد سعید فوت ہوئے۔

 
 
 
 

13. حکیم محمد سعید کی پیدائش ہوئی۔

 
 
 
 

14. ایا صوفیہ کے صدر دروازے پر نالیاں بنوائیں گئیں۔

 
 
 
 

15.       حکیم محمد سعید نے کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔

 
 
 
 

مختصر سوالات

استنبول کو جب فتح کیا گیا تو وہا ں کے لوگوں کاکیا خیال تھا؟
استنبول کی فتح کب کیسے اور کس نے کی؟
استنبول پر محا صرہ کتنے سا ل رہا  اور اسکی تاریخی اہمیت کیا ہے؟
استنبول کس ملک کا شہر ہے اور اس پر پہلا حملہ کب اور کس نے کیا؟
احمد ندیم قاسمی نے حکیم صاحب نے بارے کیا لکھا؟
آپ کس لیبارٹریز کے بانی اور کس سوسائٹیوں کے صدر رہے؟
حکیم محمد سعید کے خاندان نے کب ہجرت کی؟
حکیم صاحب نے طب کی تعلیم کہاں سے کی اور عملی زندگی کیسے شروع کی؟
حکیم محمد سعید نے نو برس کی عمر تک کیا کام کئے؟
حکیم محمد سعید کب ، کہاں اور کس کے گھرپیدا ہوئے؟
حوالہ متن اور سیاق و سباق کے مطابق درج ذیل نثر پارے کی تشریح کریں۔
مصنف کے شریک سفر دوستوں کے نام تحریر کریں؟           
“توپ کاپی “میوزیم کا اپنے الفاظ میں تعارف کرئیں؟
     تر کی میں جمعہ المبارک کا آدھا آدھا خطبہ کن دو زبانوں میں دیا گیا؟
آیا صوفیہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
استنبول پر مسلمانوں کے پہلے حملے کی خاص بات کیا ہے؟

تفصیلی سوالات

“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
مسلمانوں نے اس میں بہت سی تعمیرات کا اضافہ کیا۔ دیواروں اور چھتوں کی پچی کاری پر سرمئی قلعی کروادی گئی ۔ جن دیواروں پر بت بنے ہوئے تھے، انھیں منہدم کروا کے نئی دیوار بنوادی گئی ۔ سلطان محمد نے ایک بلند مینارتعمیر کروایا۔سلیم ثانی نے شمال کی جانب دوسرا مینار بنوایا، مراد ثالث نے باقی دو مینار اور مرمت کا سارا کام مکمل کروایا۔ اس نے صدر دروازے کے پاس اندر کی طرف سنگ جراحت کی دو بڑی بڑی نالیاں بنوائیں اور وہ دو بڑے چبوترے تعمیر کرائے ،جن پر بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی تھی.”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
ذراسا یہ اعلان ہوتے ہی منبر سے دروازے تک چارفیٹ کا راستہ بن گیا۔نمازی دورویہ کھڑے ہوگئے ۔ایک انسان اپنی جگہ سے نہ ہلا اور ہم سب مندوبین نہایت اطمینان سے باہر آ گئے ۔ یہ تنظیم کی بات ہے ۔ ترک اب دنیا کی ایک نہایت شائستہ اور منظم قوم بن چکے ہیں ۔ان کا یہ ڈسپلن ان کو دنیا کی بڑی قوم بنارہا ہے ۔ “
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
اس مسجد کی تعمیر سلطان سلیمان کے ایما پرفن تعمیر کے مشہور ماہر معمار جناب محترم سنان کے ہاتھوں ہوئی ۔اس کا سنگ بنیاد ۱۵۵۰ء میں رکھا گیا اور ۱۵۵۷ء میں اس کی تعمیر پا یہ تکمیل کوپہنچی ۔ یہ مسجد ترکی کی تمام مساجد سے ممتاز ہے ۔اس مسجد کا گنبد بہت ہی دل نواز ہے، اس گنبد کے اطراف میں چھوٹے چھوٹے پانچ اور گنبد ہیں ، جو بالکل اس طرح محسوس ہوتے ہیں ، جیسے تاروں کے درمیان چاند ۔ اس مسجد کی کھڑکیوں پر بے انتہا نقش و نگار بنے ہوۓ ہیں ۔”
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
سلیمانیہ سے ملحق ایک بڑا کتب خانہ ہے ۔ یہاں مخطوطات کا سب سے بڑا ذخیرہ محفوظ ہے۔اندازے کے مطابق ایک لاکھ قلمی کتابیں یہاں ہیں اور نہایت ترتیب وتنظیم سے رکھی ہوئی ہیں ۔ جب میں اپنے رفیقوں کو باسفورس ، گولڈن ہارن اور ایا صوفیہ کی سیر کراتا ہوا یہاں سے سلیمانیہ میں لایا تو سب کی حیرت ومسرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ ہم سب نے یہاں اچھا خاصا وقت صرف کیا۔ اب یہاں سے ہم توپ کا پی سراۓ چلے کہ ترکی میں یہ ایک نہایت اہم عجائب گھر ہے۔ “
“درج ذیل نثر پارے کی تشریح کیجیے۔ خط کشیدہ الفاظ کے معانی، سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی لکھیے۔
ہم سب دوست ، یعنی محترمه خانم ڈسلوا , محترم ڈاکٹر محمد شعیب اختر , محترم ڈاکٹر عطاءالرحمان ،محترم جناب ڈاکٹر ظفر اقبال توپ کا پی پہنچ گئے ۔ یہاں آۓ تو سیلانیوں ( ٹورسٹوں ) کا جم غفیر تھا۔ میرے دوستوں کو نا شتے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔توپ کاپی میں نہایت زور دار ناشتا کیا۔ میں نے بس جوس نوش جان کرلیا۔ ان دوستوں نے ترکش بند کی خوب تعریف کی ۔ خیر جناب ! جلدی جلدی ناشتا کر کے ہم توپ کا پی سراۓ میوزیم دیکھنے کو چل پڑے.”
سبق استنبول کا خلاصہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *