Urdu 1st Year Sabaq 8 Chiragh ki Lo MCQS Short Questions Long Questions Notes

urdu 11th notes mcqs sabaq 8

1. سبق’’چراغ کی لو کس نے لکھا ہے؟

 
 
 
 

2. اچھن کے باپ کے مطابق اٹھواروں میں کتنا تیل ملتا تھا؟

 
 
 
 

3. سبق”چراغ کی لو کے مطابق غریبوں کو امیروں کی برابری کرنے کا موقع ملتا ہے:

 
 
 
 

4. دیاسلائی کی روشنی میں اچھن کے باپ کا چہرہ نظر آیا:

 
 
 
 

5. اچھن کا باپ کیا کام کرتا تھا؟

 
 
 
 

6. گھر میں داخل ہوکرا چھن کے باپ نے ٹھوکر کھائی:

 
 
 
 

7. بیڑی کی طلب ہونے پر اچھن کے باپ کی کیا حالت ہوتی؟

 
 
 
 

8. اچھن کے باپ کو دکان پر نوکری کر تے کتنا عرصہ ہو گیا تھا؟

 
 
 
 

9. اچھن کا باپ اپنی بیوی کے کفن کے لیے سب طرف سے مایوس ہو کر کہاں جا تا ہے؟

 
 
 
 

10. اچھن کے باپ کو غصہ کب آیا؟

 
 
 
 

11. اچھن کی ماں زندگی بھرترستی رہی:

 
 
 
 

12. اچھن کون سی بیماری میں مبتلا تھی؟

 
 
 
 

13. اچھن کے باپ نے بیڑی بجھاکر کیا کیا؟

 
 
 
 

14. ہڈیوں پر منڈھی سیاہ کھال کس کی تھی؟

 
 
 
 

15. لڑائی شروع ہوئی تو سامان کتنے منافع پر بکنے لگا؟

 
 
 
 

16. اچھن نے اپنا سرکہاں ٹیک دیا؟

 
 
 
 

17. اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کا خیال اچھن کے باپ کے نزدیک تھا

 
 
 
 

18. اچھن کے لہجے میں کس بات کی خوشامد تھی؟

 
 
 
 

19. اچھن کے بارے میں اس کے باپ کولوگوں نے کیا مشورہ دیا؟

 
 
 
 

20. سبق’’چراغ کی لو کس کتاب سے ماخوذ ہے؟

 
 
 
 

21. سبق”چراغ کی لو نثر کی کس صنف سے تعلق رکھتا ہے؟

 
 
 
 

22. اچھن کو کس کا انتظار تھا؟

 
 
 
 

23. چار پائی پر بیٹھ کرا چھن کے باپ نے اپنی جیب سے کیا نکالا؟

 
 
 
 

24. ہاجرہ مسرور کے سبق ’’چراغ کی لو کے مطابق تمام رات لالٹینوں کی روشنی کہاں رہتی تھی؟

 
 
 
 

25. دکان کے مالک نے اچھن کے باپ کو کتنے روپے دیے؟

 
 
 
 

26. اچھن کی ماں کو مرے ہوئے کتناوقت گزر چکا تھا؟

 
 
 
 

27. اچھن کے باپ کو کس چیز کے سائے میں بٹھا دیا گیا؟

 
 
 
 

28. اچھن کے باپ کی ماہانہ تنخواہ کتنی تھی؟

 
 
 
 

29. سبق’’چراغ کی لو میں بغیر پلستر دیوار میں اندھیرے میں ڈوب کر کیسی لگتی تھیں؟

 
 
 
 

30. دکان کا پرانامنشی اتنا ہی سستا تھا جتنا

 
 
 
 

31. تنخواہ بڑھانے کے مطالبے پر دکان کا مالک خفا ہوکرا چھن کے باپ سے کیا کہتا ہے؟

 
 
 
 

32. چراغ کی لو کے مطابق شام کی تاریکی میں سامنے کی ہر چیز نظر آ رہی تھی:

 
 
 
 

33. اچھن کے باپ نے بیڑی کیسے بجھائی؟

 
 
 
 

34. اچھن نے خوشامد اورآرزو بھرے لہجے میں کہا؟

 
 
 
 

35. اچھن کا جی کیوں الٹنے لگا تھا؟

 
 
 
 

36. اچھن کا باپ کس لیے فکرمند تھا؟

 
 
 
 

37. اچھن کا باپ اس کے لیے دوا کہاں سے لاتا تھا؟

 
 
 
 

38. دکان کے مالک نے قرض دیتے ہوئے اچھن کے باپ سے کیا کہا؟

 
 
 
 

39. اچھن کا باپ دن رات میں کتنی بیڑیاں پیتا تھا؟

 
 
 
 

40. اچھن کوکس پر غصہ آ رہا تھا؟

 
 
 
 

41. اچھن نے اپنے باپ کوکس کام سے روکا؟

 
 
 
 

42. اچھن کی ماں مری تو آٹے کی قیمت تھی

 
 
 
 

43. اچھن دیا سلائی کی ڈبیالے کر کہاں گئی؟

 
 
 
 

44. انسان’’چراغ کی لو کا موضوع کیا ہے؟

 
 
 
 

45. اچھن کے ابا کی ڈاڑھی کیسی تھی؟

 
 
 
 

46. اچھن کاجی کیوں متلا رہا تھا؟

 
 
 
 

47. اچھن کے باپ کے دل میں کس چیز کی امنگ پیدا ہوئی؟

 
 
 
 

48. اچھن کی شادی کرنے کا مشورہ کون دیا کرتا تھا؟

 
 
 
 

49. سبق”چراغ کی لو کا مرکزی کردار کون سا ہے؟

 
 
 
 

تفصیلی سوالات

“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

گھر کی سنسان تاریکی میں دیا سلائی کے رگڑ نے کی آواز گونجی اور سیاہ طاق میں رکھے ہوۓ چراغ پر مدھم سی لو چپکنے گی … بوسیده دالان کے ستون کا سایہ چھوٹے سے آنگن سے گزر کر سامنے کی دیوار تک چڑھ گیا تو انچن نے دیا سلائی کی ڈیاسٹھی میں دبا کر اپنا سر طاق کے برابر ٹیک دیا اور پتلیاں پھرا کر چراغ کی ٹمٹماتی ہوئی لوکو د یکھنے گی ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

باپ نے بیڑی چار پائی کی پٹی پر رگڑ کر بجھا دی اور اسے دوبارہ پینے کے خیال سے اپنے کان پر جما کرانچھن کی طرف دیکھا تو اسے جیسے دھچکا سالگا۔ اندھیرے میں پناہ ڈھونڈ تی ہوئی روشنی میں وہ اس طرح کھڑی ہوئی بڑی بھیا تک لگ رہی تھی .. ہڈیوں پر منڈھی ہوئی سیاہ کھال الجھے الجھاۓ جھونجھ ایسے بال، کھلے ہوۓ ہونٹ اور پھری ہوئی پتلیاں ۔۔ دیوار سے ٹک کر مر گئی ہو ۔ بس جیسے وہ”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

ماں کے مرنے کے بعد سے اسے بھی نہ جانے کیا ہوتا جارہا تھا۔ بس گھلتی ہی چلی جارہی تھی ۔ وہی ماں کی سی ٹھسکے دار کھانسی اور ہلکا ہلکا بخار………. دھر پڑی ہے ، ادھر پڑی ہے ۔ باپ غریب اس کی حالت کو سمجھتا تو خوب مگر وہ علاج کیا خاک کرتا ۔ زیادہ سے زیادہ وہی خیراتی ہسپتال کی دوائیں ، جن میں دوا تو براۓ نام تھی ہاں پانی ہی پانی ہوتا ۔۔ ..سرکاری ہسپتال میں دی جانے والی دوائیں الٹا نقصان ہی کرتی ……… جب اچھن کی ماں کے لیے کچھ نہ کر سکا تو انچن کے لیے کہاں سے ڈاکٹر پکڑ لا تا .. ہی”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

’’ جانتی ہے کہ انھواروں میں کہیں دو پہیے کامٹی کا تیل نصیب ہوتا ہے اس پر بھی بھٹر بھاڑ میں پیروں کا قیمہ بنتا ہے، کپڑے پھٹتے …….. سب سے کہ رہا ہوں کہ تیل پر کنٹرول ہے اور تو ہے کہ روز روزلو بڑھانے کی ضد کیا کرتی ہے ۔‘‘ ’’ تو کیا فائدہ ایسے اجالے سے ۔ دکا ندا را تنا تیل بھی نہ دیا کرے ۔ اس سے تو اندھیرا پڑار ہے ۔ نام تو نہ ہو چراغ جلنے کا ۔‘‘اس کی آنکھوں میں چمکتی ہوئی آرزو کے ننھے ننھے دیے چا تک بڑھ گئے ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

وہ مایوس ہو کر لڑ کھڑاتی ہوئی دالان سے نکل آئی اور اپنی چار پائی پر پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئی ۔ اسے اپنے ابا پر غصہ آرہا تھا کہ آخر وہ اس براۓ نام روشنی پر قناعت کیوں کرتے ہیں؟ مٹی کا تیل اسے روزانہ کیوں نہیں ملتا؟ جب کہ گلی کے نکڑ والے خوبصورت دومنزلہ گھر میں تمام رات بڑی بڑی لالٹینوں کی روشنی ہوتی رہتی ہے۔ لیکن اس کا جھنجھلا یا ہوا د ماغ پی سوچ ہی نہ سکا کہ اگر تیل لڑے بھڑے ملنے بھی لگے تو اس مد کے لیے دو پیسے روز کس کے گھر سے آئیں گے جب کہ اس کے باپ کو سخت محنت کی قیمت صرف اتنی ہی ملتی ہے کہ وہ جیے تو کیا ہاں جینے کی بھونڈی سی نقل اتارتار ہے ۔ بالکل اس طرح جیسے سیاہ طاق میں رکھاہوا چرا ……… جس کی مدھم روشنی پر چاروں طرف سے اندھیرا امنڈ رہا تھا…”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

اچھن پیچ و تاب کھاتی اپنی چار پائی پرلڑھک گئی ۔ اس کا جی گھبرارہا تھا اور ہر طرف سے سفید نئے کپڑوں کی کھڑکھڑاہٹ صاف سنائی دے رہی تھی ۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ زورزور سے رو کر اپنے ابا کی قناعت پسندی کا ڈھنڈوراپی ……… لیکن اس سے رویا بھی نہ گیا ۔آنسوؤں کا ذخیرہ تو جیسے حلق میں ہی پھنس کر رہ گیا تھا ۔”
نصابی سبق ” چراغ کی لو ” کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *