Urdu 1st Year Sabaq 7 Sifarish MCQS Short Questions Long Questions Notes

urdu 11th notes mcqs sabaq 7

1. فیکا ڈاکٹر عبدالجبار سے کیوں نہ مل سکا؟

 
 
 
 

2. افسانہ سفارش‘‘ میں کس مہینے کی سردی کا ذکر کیا گیا ہے؟

 
 
 
 

3. دوسرے دن بابو جی کو کہاں جانا پڑا؟

 
 
 
 

4. فیکا کوچوان مصنف سے کن موضوعات پر بات کرتا تھا؟

 
 
 
 

5. سرمہ بیچنے والے حکیم نے کیسے یقین دلایا کہ صدیقے کی آنکھ کی لالی جاتی رہے گی؟

 
 
 
 

6. محلے کی بڑی گلی کے موڑ پر کتنے تانگے ہر وقت موجودرہتے تھے؟

 
 
 
 

7. افسانہ ’سفارش‘‘میں کس رویے کی عکاسی ملتی ہے

 
 
 
 

8. فیکے کوچوان کا باپ ساری رات کیوں نہ سوسکا؟

 
 
 
 

9. بابوگلی کے موڑ پر کس کا انتظار کر رہا تھا؟

 
 
 
 

10. بابوجی نے فیکے کوچوان کو کیا دیا؟

 
 
 
 

11. فیکے کوچوان کے باپ کی بینائی کیوں جاتی رہی؟

 
 
 
 

12. سبق سفارش‘‘ کی کہانی کے راوی کون ہیں؟

 
 
 
 

13. گھٹنا پاجامے سے جھانک رہا ہوتو باری کیسے آئے،افسانہ’’سفارش‘‘ میں یہ جملہ کس نے کہا؟

 
 
 
 

14. افسانہ سفارش میں کس شہر کا ذکر ہے

 
 
 
 

15. فیکے کوچوان نے کہا میرے بابا کی آنکھ

 
 
 
 

16. میوہسپتال کے سامنے فیکا کوچوان کس سے باتیں کر رہا تھا؟

 
 
 
 

17. فیکے کوچوان کے باپ کا نام تھا:

 
 
 
 

18. افسانہ سفارش‘‘میں بابوجی نے نوکر کو کیوں ڈانٹا؟

 
 
 
 

19. فیکا کوچوان کسی کو ساتھ لے کر کوٹ لکھپت ہسپتال گیا؟

 
 
 
 

20. سبق سفارش کے مصنف کا نام ہے

 
 
 
 

21. فیکے کوچوان کے بابا نے کیا پڑھ کر سرما آنکھ میں لگایا؟

 
 
 
 

22. ڈاکٹر جبارصاحب سکوٹر پر کہاں سے گزرے؟

 
 
 
 

23. فیکے کوچوان نے بابوجی کو اپنے گھر کے بارے میں کیا بتایا؟

 
 
 
 

24. فیکا کس سبق کا کردار ہے؟

 
 
 
 

25. راج گڑھ کے کوچوان کا کون سا رشتہ دار میو ہسپتال میں چوکی دارتھا؟

 
 
 
 

26. سبق’’سفارش‘‘ کس کتاب سے ماخوذ ہے؟

 
 
 
 

27. بابوجی نے ڈاکٹر جبارکوفون کیا

 
 
 
 

28. کوٹ لکھپت ہسپتال جانے پر فیکے کوچوان کے کتنے روپے گل ہوگئے؟

 
 
 
 

29. فیکے کے باپ کو میو ہسپتال سے کہاں بھجوادیا گیا؟

 
 
 
 

30. میو ہسپتال میں نرس بار بار کیا کہہ رہی تھی؟

 
 
 
 

31. بابوجی بس تانگے میں سوار تھے، اس کا گھوڑا پھسل کر کتنی دیرگرارہا؟

 
 
 
 

32. فیکے نے تانگا کیوں نہیں جوڑا تھا؟

 
 
 
 

33. فیکا اپنے باپ کی پٹی کھلنے کے بعد بابوجی کے پاس کس وقت آیا؟

 
 
 
 

34. اپنے باپ کی آنکھیں ٹھیک ہونے پر فیکے کوچوان نے بابو جی سے کیا کہا؟

 
 
 
 

35. مصنف کے دوست ڈاکٹر کا نام تھا:

 
 
 
 

36. فیکا بابو جی کے پاس کس کی سفارش کے لیے آیا؟

 
 
 
 

37. فیکے کوچوان کی آنکھیں کیسی تھیں؟

 
 
 
 

38. سبق’’سفارش‘‘ کا تعلق نثر کی کس صنف سے ہے؟

 
 
 
 

39. پوست کے ڈوڈے ابال کر آنکھ دھونے کا مشور ہ فیکے کے باپ کو کس نے دیا؟

 
 
 
 

40. جب فیکے نے بابوجی کو ساتھ چلنے کو کہا تو انہوں نے کیا بہانہ کیا؟

 
 
 
 

41. فیکے کوچوان کے باپ نے سرمہ کس سے خریدا ؟

 
 
 
 

42. سبق کے آخر میں مصنف نے کیا الفاظ کہے؟

 
 
 
 

43. بابوجی نے کس کے نام سفارشی کارڈ لکھا؟

 
 
 
 

44. فیکے کوچوان کے باپ نے کب کہا کہ آنکھ کا دیا بجھ گیا؟

 
 
 
 

45. فیکے کوچوان کے والد کی پٹی کس دن کھلی؟

 
 
 
 

46. جمعے کی شام آ کر فیکے کوچوان نے بابوجی کوکیا بتایا؟

 
 
 
 

47. فیکے کوچوان کے مطابق اس کے باپ کو بینائی کس نے دی؟

 
 
 
 

48. چوتھے دن فیکے کوچوان کو دیکھ کر بابو جی کو کیوں شرمندگی ہوئی

 
 
 
 

49. افسانہ سفارش‘‘ کے فیکے کا پیشہ کیا تھا

 
 
 
 

50. بابوجی نے نوکر کوفیکے کوکی اطلاع دینے کے لیے کہا؟

 
 
 
 

تفصیلی سوالات

“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

فیکے کی آنکھوں میں ممنونیت کی نمی جاگی ۔ وہ بولا :”بس با بو جی خدا آپ کا بھلا کرے ۔ رات تو بیچ چاخ سے گزار دی۔ پھر صبح کو محلے کے سارے کو چوان اکٹھے ہوۓ تو ان میں سے پچا شیدے نے کہا کہ پوست کے ڈوڈے پانی میں ابالو اور اس پانی سے آنکھ دھوؤ۔ دھوتی پر بابا اسی طرح تڑپتا رہا۔ پھر کسی نے کہا کہ پالک کا ساگ ابال کر یا ندھو، با ندھا اور جب کھولا تو بابا نے صاف کہ دیا کہ اب کیا جتن کر تے ہو آنکھ کا دیا تو بجھ گیا۔ ہمارے گھر میں تو پیس پڑ گئی بابو جی ۔ اسے ایک ہسپتال میں لے گئے ، پھر دوسرے میں لے گئے ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

میں باہر آ یا توفیکا بولتے ہی زار زار رونے لگا۔ بابو جی کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کچھ مجھ میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آواز بھر اگئی ۔ میرے سوچتے ہوۓ فقرے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے بمشکل میں نے کہا۔’’فیکے بات یہ ہے فیکے کہ…… بات یہ ہے … آنسوؤں سے بھیگا ہوا ، بچوں کی طرح گول گول سرخ چہرہ لیے فیکا اٹھا اور بولا ‘بابو جی! کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔ میں شکر یہ ادا کروں تو کیسے کروں ۔‘‘میرا بابا ٹھیک ہو گیا ہے ۔اس کی دونوں آنکھیں ٹھیک ہوگئی ہیں ۔ اسے بینائی اللہ نے دی ہے اور آپ نے دی ہے۔ آپ نے مجھے خرید لیا ہے بابو جی یتم خدا کی میں عمر بھر آپ کا نوکر رہوں گا۔‘‘ اور میں نے ایک بہت بی ، بہت گہری سانس لے کر کہا۔’’ کوئی بات نہیں ٹیکے ۔ کوئی بات نہیں ‘‘”
نصابی سبق “سفارش ” کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *