Urdu 1st Year Sabaq 11 Lahore ka Jughrafia MCQS Short Questions Long Questions Notes

urdu 11th notes mcqs sabaq 11

1. سبق’’لاہور کا جغرافیہ کس کتاب سے ماخوذ ہے؟

 
 
 
 

2. لاہور کے ہر مربع انچ پر موجود ہے:

 
 
 
 

3. دریائے راوی کے بارے میں پطرس بخاری کا کیا کہتا ہے؟

 
 
 
 

4. 19لاہور کا حدوداربعہ کس نے منسوخ کیا ہے؟

 
 
 
 

5. پطرس بخاری کے مطابق طلبہ کی فصل کب بوئی جاتی ہے؟

 
 
 
 

6. ’’رادی‘‘ کو اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟:

 
 
 
 

7. لاہور کے بازاروں سے گزرنے والی سڑک کس نے بنوائی تھی؟

 
 
 
 

8. لاہور میں ہم رسانی آپ کے لیے ابتدائی منصوب کس نے بنایا تھا؟

 
 
 
 

9. اہل لاہور کے لیے رسانی آب کی سکیم کب سے زیرغور ہے؟

 
 
 
 

10. پطرس بخاری کا سن وفات کیا ہے؟

 
 
 
 

11. میونسپلٹی کے پاس کس چیز کی قلت ہے؟

 
 
 
 

12. .پطرس بخاری کے مطابق لاہور کی سب سے بڑی حرفت کون سی ہے؟

 
 
 
 

13. کمیٹی نے کیا مہیا کرنے کے لیے مرکز کھول دیے؟

 
 
 
 

14. میونسپلٹی کی عارضی فراہمی آب سکیم کے مطابق تھوڑے ہی عرصے بعد ہر محلے میں کیا ہوگا ؟

 
 
 
 

15. بزرگوں نے لاہور کے بارے میں کیا کہا ہے؟

 
 
 
 

16. پطرس کے بقول لاہور میں اینٹوں اور چونے سے دیوار کھڑی کرنے کے بعد اس پر کس چیز کا پلستر کیا جاتا ہے؟

 
 
 
 

17. پطرس بخاری کے مطابق لاہور کو کیا عارضہ لاحق ہے؟

 
 
 
 

18. اہل لاہور کے لیے عارضی طور پر پانی کی فراہمی کا کیا انتظام کیا گیا؟

 
 
 
 

19. سبق لاہور کا جغرافیہ کے مصنف کا نام کیا ہے؟

 
 
 
 

20. پطرس بخاری کے مطابق لاہور کا بناسپتی گھوڑاحرکت کے وقت کیا کرتا ہے؟

 
 
 
 

21. کمیٹی نے اہل لاہور کو ہوا کی فراہمی کے لیے کیا انتظام کیا ہے

 
 
 
 

22. نظام سقے کے مسودے کے مطابق پانی پہنچانے کے لیے کیا ضروری ہے؟

 
 
 
 

23. پشاور کے راستے آنے والے حملہ آور کیا تخلص کرتے ہیں؟

 
 
 
 

24. پطرس بخاری کے بقول طلبہ کی فصل کب پک کر تیار ہوتی ہے؟

 
 
 
 

25. پطرس بخاری کے بقول لاہور میں کیا مشکل سے ملتا ہے؟

 
 
 
 

26. میونسپلٹی بڑی بحث و تمحیص کے بعد اس نتیجے پرپہنچی کہ آب و ہوا کے متعلق اہل لاہور کی خواہش ہے:

 
 
 
 

27. پطرس بخاری کے مطابق لاہور کے شہریوں نے کس خواہش کا اظہار کیا ہے؟

 
 
 
 

28. پطرس بخاری نے نصف دریا کس دریا کو کہا ہے؟

 
 
 
 

29. پانچ دریاؤں کی سرزمین پنجاب میں اب کتنے دریا بہتے ہیں

 
 
 
 

30. بقول پطرس بخاری اخبار انقلاب‘‘ کے دفتر پرکس کا اشتہارلکھاہے؟

 
 
 
 

31. بقول پطرس بخاری خیالی طلبہ شام کے وقت کیا کرتے ہیں؟

 
 
 
 

32. پطرس بخاری کے مطابق لاہور کے تانگوں میں کون سے گھوڑے استعمال کیے جاتے ہیں:

 
 
 
 

33. لاہور لاہور ہے ، اس پتے سے جن کو لاہور نہ ملے ان کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے؟

 
 
 
 

34. پطرس بخاری کے خیال میں لاہور کی سب سے بڑی صنعت کون سی ہے؟

 
 
 
 

35. سبق لاہور کا جغرافیہ کے مطابق لاہورکو دریافت ہوئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے؟

 
 
 
 

36. پشاور کے راستے سے کون سے حملہ آور لا ہور وارد ہوئے تھے؟

 
 
 
 

37. پطرس بخاری کے مطابق درزی، دھوبی اور نائی کے پاس کون سے طلبہ جاتے ہیں؟

 
 
 
 

38. پطرس بخاری کے مطابق لاہور پہنچنے کے لیے ایک راستہ پشاور سے آتا ہے اور دوسرا آ تا ہے:

 
 
 
 

39. دریائے راوی کہاں پایا جا تا ہے؟

 
 
 
 

40. پطرس بخاری کے بقول لاہور کے چاروں طرف کیا واقع ہے؟

 
 
 
 

41. پطرس بخاری کے بقول لاہور میں بہم رسانی آب کے منصوبے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے؟

 
 
 
 

42. پطرس بخاری کے مطابق جلالی طلبہ کا شجرہ کس سے ملتا ہے؟

 
 
 
 

43. پطرس بخاری کا سن پیدائش کیا ہے؟

 
 
 
 

44. پطرس نے یو پی کے حملہ آوروں کو کہا ہے:

 
 
 
 

45. لاہور میں ہوا کی جگہ کیا استعمال کیا جا تا ہے؟

 
 
 
 

46. میونسپلٹی نے لاہور کا حدوداربعہ منسوخ کیوں کیا؟

 
 
 
 

47. پطرس بخاری کے مطابق بتیس دانتوں میں زبان کی طرح کون رہتا ہے؟

 
 
 
 

48. پطرس بخاری کی پیش گوئی کے مطابق دس بیس برس بعد لاہور صوبے کا نام ہوگا جس کا دارالخلافہ ہوگا

 
 
 
 

49. پطرس بخاری کے مطابق لاہور کی مشہورترین پیداوار کیا ہے؟

 
 
 
 

50. پطرس بخاری کے بقول خیالی طلب علی الصباح کتنے ڈنٹر پیلتے ہیں؟

 
 
 
 

51. پطرس بخاری کے مطابق لاہور تک پہنچنے کے کتنے راستے مشہور ہیں؟

 
 
 
 

52. میونسپل کمیٹی نے فراہمی آب کے حوالے سے اہل لاہورکو کیا ہدایت کی؟

 
 
 
 

53. پطرس بخاری کے بقول لاہور کی ہر عمارت کی بیرونی دیوار میں کیسی بنائی گئی ہیں؟

 
 
 
 

54. لاہور کے لوگ کیسے ہیں؟

 
 
 
 

55. یوپی کے حملہ آور کس راستے سے لاہور آتے تھے؟

 
 
 
 

56. میونسپلٹی نے نل لگوا کر کیا کیا؟

 
 
 
 

57. پطرس بخاری نےاہل سیف‘‘ کے کہا؟

 
 
 
 

58. طلبہ کی کون قسم خالص ترین ہے؟

 
 
 
 

59. سبق لاہور کا جغرافیہ میں طلبہ کی کتنی قسمیں بتائی گئی؟

 
 
 
 

60. بقول پطرس بخاری دریائے راوی کے بہنے کا شغل کب سے بند ہے؟

 
 
 
 

تفصیلی سوالات

“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی۔ اس لیے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بے جا استعمال نہ کر میں بلکہ جہاں تک ہو سکے کفایت شعاری سے کام لیں ۔ چنانچہ اب لاہور میں عام ضروریات کے لیے ہوا کی بجاۓ گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جا تا ہے ۔ کمیٹی نے جا بجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے کے لیے مرکز کھول دیے ہیں جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کیے جاتے ہیں ۔امید کی جاتی ہے کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

ہم رسانی آپ کے لیے ایک اسکیم عرصے سے کمیٹی کے زیرغور ہے ۔ یہ اسکیم نظام سقے کے وقت سے چلی آتی ہے لیکن مصیبت میں ہے کہ نظام سقے کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہو چکے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے پڑھنے میں بہت وقت پیش آ رہی ہے ۔ اس لیے ممکن ہے کہ تحقیق و تدقیق میں ابھی چند سال اور لگ جائیں ۔ “
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

نظام سقے کے مسودات سے اس قد رضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے لیے نل ضروری ہیں ۔ چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کر کے جا بجاتل لگوادیے ہیں ۔ فی الحال ان میں ہائیڈروجن اور آکسیجن بھری ہے لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن میں گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی ۔ چنانچہ بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے روزانہ سکتے ہیں ۔ اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے اپنے گھڑے ملوں کے نیچے رکھ چھوڑ یں تا کہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کی دل شکنی نہ ہو ۔ شہر کے لوگ اس پر بہت خوشیاں منار ہے ہیں ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

عارضی طور پر پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کوحتی الوسع شہر سے باہر نکلے نہیں دیتے ، اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہوگا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہو گی جو راۓ دہندگی کے موقعے پر ہر راۓ دہندہ پہن کر آۓ گا۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

لیکن جب سے لاہور میں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض بعض اشتہاری کلمات پختہ سیاہی سے خود دیواروں پرتش کر دیے جاتے ہیں ، یہ وقت بہت حد تک رفع ہوگئی ہے ۔ ان دائمی اشتہاروں کی بدولت اب میں خدشہ باقی نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنا یا اپنے دوست کا مکان صرف اس لیے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چار پائیوں کا اشتہار لگا ہوا تھا اورلوٹتے وقت تک اہالیان لاہور کو تازہ اور ستے جوتوں کا مردہ سنایا جارہا ہے ۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جہاں بحرف جلی’’حمدعلی دندان ساز‘ لکھا ہے وہ اخبار انقلاب کا دفتر ہے ۔’’ خالص گھی کی مٹھائی امتیاز علی تاج صاحب کا مکان ہے’کرشنا بیوٹی کریم‘‘ شالا مار باغ کواور کھانسی کا مجرب نسخہ جہانگیر کے مقبرے کو جا تا ہے ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

طلبہ کی کئی قسمیں ہوتی ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں تم اول جمالی کہلاتی ہے ۔ یہ طلبہ عام طور پر پہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں ، بعد ازاں دھو بی اور پھر نائی کے پاس بھیجے جاتے ہیں اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

دوسری قسم جلالی طلبہ کی ہے ۔ ان کا شجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے ، اس لیے ہندوستان کا تخت و تاج ان کی ملکیت سمجھا جا تا ہے ۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ لیے نکلتے ہیں اور جو دوسخا کے غم لنڈھاتے پھرتے ہیں ۔ کالج کی خوراک انھیں راس نہیں آتی ، اس لیے ہوٹل میں فروکش نہیں ہوتے ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

تیسری قسم خیالی طلبہ کی ہے ۔ یا کثر روپ ، اخلاق اور آواگون اور جمہوریت پر بآواز بلند تبادلہ خیالات کر تے پاۓ جاتے ہیں اور آفرینش اور نفسیات کے متعلق نئے نئے نظریے پیش کر تے رہتے ہیں ۔ صحت جسمانی کوارتقائ انسانی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں ۔اس لیے علی الصباح پانچ چھے ڈنٹر پیلتے ہیں اور شام کو ہوٹل کی میت پر گہرے سانس لیتے ہیں ۔ گاتے ضرور ہیں لیکن اکثر بے سرے ہوتے ہیں ۔”
“سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی تحریر کیجیے۔

چوتھی قسم خالی طلبہ کی ہے ۔ میطلبہ کی خالص ترین قسم ہے ۔ ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتا ہیں ، امتحانات مطالعہ اور اسی قسم کے فرشتے بھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے ۔ جس معصومیت کو لے کر وہ کالج میں پہنچے تھے ، اسے آخر تک ملوث نہیں ہونے دیتے اور تعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔”
نصابی سبق “لاہور کا جغرافیہ ” کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *