Urdu 1st Year Nazam 3 Tasleem o Raza by Nazeer Akbar Abadi MCQS Short Questions Long Questions Notes

1. ”پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں“ مصرع نظم تسلیم و رضا کے

 
 
 
 

2. ”جو فقر میں پورے ہیں وہ ہر حال میں خوش ہیں“ کا دوسرا مصرع کیا ہے؟

 
 
 
 

3. اس نظم میں ”مرد“ سے کیا مراد لی گئی ہے؟

 
 
 
 

تفصیلی سوالات

“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے۔ نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔


جوفقر میں پورے ہیں وہ ہر حال میں خوش ہیں
ہر کام میں ہر دام میں ہر جال میں خوش ہیں
گرمال دیا یار نے تو مال میں خوش ہیں
بے زر جو کیا تو اسی احوال میں خوش ہیں
اجلاس میں اد بار میں اقبال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں”
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے۔ نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔


چہر ے پہ ملامت نہ جگر میں اثر غم
ماتھے پہ کہیں چین نہ ابرو میں کہیں خم
شکوہ نہ زباں پر نہ کبھی چشم ہوئی نم
غم میں بھی وہی عیش الم میں بھی وہی دم
ہر بات ہر اوقات ہرا فعال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں”
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے۔ نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔


گر اس نے دیاغم تواسی غم میں رہے خوش
اور اس نے جو ماتم د یا ماتم میں رہے خوش
کھانے کو ملاکم تو اسی کم میں رہےخوش
جس طور کہا اس نے اس عالم میں رہے خوش
دکھ درد میں آفات میں جنجال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں”
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے۔ نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔


جینے کانہ اندوه نہ مرنے کا ذرا غم
یکساں ہے انہیں زندگی اور موت کا عالم
وا قف نہ برس سے نہ مہینے سے وہ اک دم
نہ شب کی مصیبت نہ کبھی روز کا ماتم
دن رات گھڑی پہر مہ و سال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں”
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے۔ نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔

ان کے تو جہاں میں عجب عالم ہیں نظیر، آہ
سب ایسے تو دنیا میں ولی، کم ہیں نظیر آہ
کیا جانے فرشتے ہیں کہ آدم ہیں نظیر آہ
ہر وقت میں ہر آن میں خرم ہیں نظیر آہ
جس ڈھال میں رکھا وہ اسی ڈھال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں”
نظم ” تسلیم و رٖضا ” کا خلاصہ لکھئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *