Urdu 1st Year Ghazal Kuch Ghalat bhi to Nahi Tha – Ab to Kuch aor Hi Ahmad Nadeem Qasmi MCQS Tashreeh Notes

1. کچھ غلط بھی تو نہیں تھا مرا ـــــــ ہونا

 
 
 
 

2. مجھ کو آتا نہیں محروم ـــــــ ہونا

 
 
 
 

3. شاعری روز ازل سے ہوئی ـــــــــ ندیم

 
 
 
 

4. قعر دریا میں بھی آنکے گی ــــــ کی کرن

 
 
 
 

تفصیلی سوالات

“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا
آتش و آب کا ممکن نہیں یک جا ہونا

ایک نعمت بھی یہی، ایک قیامت بھی یہی
روح کا جاگنا اور آنکھ کا بیِنا ہونا

جو برائی تھی، میرے نام سے منسُوب ہوئی
دوستو! کِتنا بُرا تھا میرا اچھا ہونا”
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔

جو برائی تھی، میرے نام سے منسُوب ہوئی
دوستو! کِتنا بُرا تھا میرا اچھا ہونا

قعرِ دریا میں بھی آ نکلے گی سوُرج کی کرن
مجھ کو آتا نہیں محروُم تمناّ ہونا

شاعری روزِ ازل سے ہوُئی تخلیق ندیمؔ
شعر سے کم نہیں انسان کا پیدا ہونا”
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے
شام کے بعد بھی سورج نہ بُجھایا جائے

نئے انساں سے تعارف جو ہوا تو بولا
مَیں ہوں سقراط، مجھے زھر پلایا جائے

موت سے کِس کو مفر ہے، مگر انسانوں کو
پہلے جینے کا سلیقہ تو سکھایا جائے”
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔

نئے انساں سے تعارف جو ہوا تو بولا
مَیں ہوں سقراط، مجھے زھر پلایا جائے

موت سے کِس کو مفر ہے، مگر انسانوں کو
پہلے جینے کا سلیقہ تو سکھایا جائے

حکم ہے، سچ بھی قرینے سے کہا جائے ندیم
زخم کو زخم نہیں، پھول بتایا جائے”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *