Urdu 1st Year Ghazal Jis Sar ko Ghroor – Gul ko Hota by Mir Taqi Mir MCQS Tashreeh Notes

1. ٹک میر جگر سوختہ کی خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحر کا

یہ شعر غزل میں کیا ہے؟

 
 
 
 

2.  : ”جس سر کو غرور آج ہے یاں تا جوری کا“ کس شاعر کی غزل کا مصرع ہے؟

 
 
 
 

3. میر تقی میر کی وجہ شہرت کیا ہے؟

 
 
 
 

4. گل کو ہوتا صبا قراراے کاش!
رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش!

یہ شعر غزل میں کیا ہے

 
 
 
 

تفصیلی سوالات

“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا “
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔


ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا “
“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش
رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش

یہ جو دو آنکھیں مند گئیں میری
اس پہ وا ہوتیں ایک بار اے کاش

کن نے اپنی مصیبتیں نہ گنیں
رکھتے میرے بھی غم شمار اے کاش

“درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجئے۔


جان آخر تو جانے والی تھی
اس پہ کی ہوتی میں نثار اے کاش

س میں راہ سخن نکلتی تھی
شعر ہوتا ترا شعار اے کاش

شش جہت اب تو تنگ ہے ہم پر
اس سے ہوتے نہ ہم دوچار اے کاش”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *