2nd Year Urdu Sabaq 9 Molana Zafar Ali Khan MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 9

1. اخبار نئی دنیا‘‘ کا کولمبس کون تھا؟

 
 
 
 

2. مصنف اور ظفر علی خان کی بحثا بحثی میں کون جیتا ؟

 
 
 
 

3. چراغ حسن حسرت نے ظفر علی خاں کی باتوں کو کس طرف موڑ نا چاہا؟

 
 
 
 

4. سائمن کون تھا؟

 
 
 
 

5. حسرت ’’نئی دنیا‘‘ میں افتتاحی مقالے کے علاوہ کیا لکھتے تھے؟

 
 
 
 

6. عام شعرا شعر کہنے سے پہلے کس حکیم کی طرف رجوع کرتے ہیں؟

 
 
 
 

7. جمیند ار صاحب‘‘ سے کون کی شخصیت مراد ہے؟

 
 
 
 

8. سائمن کمیشن کی ہند آمد کی وجہ کیا تھی؟

 
 
 
 

9. ظفر علی خان نے نظم پتھر نکال ہمسر نکال کتنی دیر میں لکھی ؟

 
 
 
 

10. ظفر علی خاں سائمن کمیشن کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے؟

 
 
 
 

11. سبق’’ ظفر علی خاں‘‘ کے مصنف کا نام کیا ہے؟

 
 
 
 

12. حسرت نے غالب کا نام لیا تو ظفر علی خاں نے کس شخصیت کا ذکر چھیڑا؟

 
 
 
 

13. شائق احمد عثانی کس زبان کی کتابیں رکھتے تھے؟

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ۔ان دنوں’’نئی دنیا‘‘ کا دفتر چونا گلی میں ہوا کرتا تھا ۔ سٹرک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ باہر ایک طرف عصر جدید پر لین ، دوسری طرف حکیم غلام مصطفی کا مطلب ۔ دروازے سے اندر گھسوتو دہنی طرف نئی دنیا آبادتھی اور بائیں طرف مولا نا شائق احمد عثمانی نے پرانی دنیا بسا رکھی تھی ، یعنی اپنے اہل وعیال اور عربی کی بھاری بھر کم کتابوں سمیت رہتے تھے ۔ میں اس نئی دنیا کا کولمبسے تھا اور مقالہ افتتاحیہ کے جہاز کے ساتھ ساتھ فکاہات کی کشتی بھی چلا تا تھا ، افسوس کہ میحفل سال بھر کے اندراندر برہم ہوگئی ، نئی دنیا رہی نہ پرانی دنیا، رہے نام اللہ کا ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 تھوڑی دیر میں مولانا ظفر علی خان کھٹ کھٹ کر تے تشریف لائے ۔ میں نے انھیں اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ تصویر میں ضرور دیکھی تھیں لیکن تصویروں سے کسی شخص کی صورت شکل کے متعلق صحیح اندازہ نہیں کیا جا سکتا ، بہر حال اتنا تو یقین تھا کہ ان کی تو نہ تو ضرور بڑھی ہوئی ہوگی ۔ آخر جب معمولی کارکنوں کا قبی شکم گنبد فلک سے ہمسری کرتا ہے تو مولانا ظفر علی خاں کو جنھیں آل انڈیالیڈر کی حیثیت حاصل ہے ، ایک عدد گرانڈیل تو ند کا مالک ہونا چاہیے لیکن انھیں دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ تو ند نہ عمامہ، آخر یہ کیسے مولانا اور کیسے لیڈر ہیں؟ میراز لاہور آ کے کھلا کہ مولانا توند سے کیوں محروم رہے؟
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 یہ تدبیر کارگر ہوئی ۔مولانا نے مجھ سے ہمدردی ظاہر کی ۔ علاج کے متعلق چند معقول مشورے دیے اور تشریف لے گئے ۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور جی میں تہیہ کر لیا کہ اب دفتر میں نہیں رہوں گا ۔ اب یہ بات بھی سمجھ میں آ گئی کہ مولا نا توند سے کیوں محروم ہیں ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 غرض مولا نا تشریف لائے اور آتے ہی سائمن کمیشن ، ہندوستان کی جدید اصلاحات، راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور کامل آزادی کا قصہ چھیڑ دیا۔ مولا نا شائق احمد عثمانی ان دنوں کانگریس سے باغی ہو چکے تھے اور سائمن کمیشن سے تعاون کے حامی تھے ۔ ان سے اس مسئلے پر بحثیں رہتی تھیں ۔اب مولانا نے یہ حکایت شروع کی تو پھر یہی بحث چھڑ گئی لیکن دراصل مجھے اس بحث سے چنداں دلچسپی تھی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 آگے چل کر معلوم ہوا کہ انھیں صرف دوڑ نے اور ڈنٹر سیلنے کا ہی شوق نہیں ، مگدر بھی ہلاتے ہیں ، نیزہ بازی اور شہسواری میں بھی برق ہیں، پیرا کی اور کشتی گیری میں بھی بند نہیں ، نشانہ بھی اچھا لگاتے ہیں ۔ حیدر آباد کی ملازمت کے زمانے میں کچھ دن فوج میں بھی رہے ۔ یہ قصہ عجیب ہے ، سیاہی نیزہ بازی کے کرتب دکھا رہے تھے ان کی بھی طبیعت لہرائی گھوڑے پر سوار ہو کے نیزہ تانا اور آن کی آن میں شیخ اکھیٹر لی۔ ہر طرف سے تحسین و آفرین کا غلغلہ ہوا اور ان کی خدمات فوج کے صیغے میں منتقل کر دی گئیں لیکن افسر الملک سے نباہ نہ ہوسکا، اس لیے استعفا دے دیا۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 دراصل مولانا کی شاعری پر تنقید کرنا میرا موضوع نہیں ۔ یونہی برسبیل تذکرہ یہ باتیں آ گئیں ۔ مجھے تو یہ کہنا ہے کہ مولانا نے اپنی تمام نظمیں بہت تھوڑے وقت میں کہی ہیں۔ شاید ہی کوئی نظم ایسی ہو جو انھوں نے گھنٹے دو گھنٹے میں کہی ہو، ورنہ ایک تنظیم پر عموماً آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت صرف نہیں ہوتا ۔ پھر نکال ۔ ہمسر نکال‘‘ بڑے معرکے کی نظم ہے ۔ ستر و شعر میں جو گھنٹے بھر میں لکھے گئے ہیں ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ہم نے اکثر شاعروں کو دیکھا ہے کہ شعر کہنا چاہتے ہیں تو شفا الملک حکیم فقیر محمد صاحب چشتی سے رجوع کرتے ہیں اور ہفتے بھر کا مسہل لے لیتے ہیں اور پھر فی یوم ایک شعر کے حساب سے کہتے چلے جاتے ہیں ، یہ نہیں کرتے تو بیوی کو پیٹتے ہیں یا اس سے پٹتے ہیں ، بچوں کو جھڑ کتے ہیں ، ذرا گھر میں شور ہوا اور وہ سر کے بال نوچنے لگے ’’ہاۓ عنقاۓ مضمون دام میں آ کے چلا گیا۔ کم بختو ! ملعونو تمھارے شور نے اسے اڑا دیا ۔‘‘ مولانا ظفر علی خاں کا یہ حال نہیں ، جس طرح ہم اور آپ نثر لکھتے ہیں اسی طرح وہ شعر کہتے چلے جاتے ہیں ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 اصل میں مولانا کو اخبار کی زبان اور کتابت کی صحت کا بڑا خیال رہتا تھا ۔ کاتبوں کی جان الگ آفت میں، ایڈیٹر ا لگ مصیبت میں مبتلا ، جب تک مولا نا دفتر میں ہیں ، غل غپاڑا مچا ہوا ہے ۔ جوں ہی کا پی پر نظر پڑی شور مچ گیا۔’’ارے یہ کیا کیا ؟ یہ عبارت تو بالکل مہمل ہے۔ اس مراسلے کی صحیح نہیں ہوئی ، یوں ہی کا تب کو دے دیا گیا ہے ۔ خبروں کی عبارت چست نہیں ۔ کتابت کی غلطیاں تو دیکھو، ایک کالم میں پچاس پچاس غلطیاں اور کتابت کیسی عجیب ہوئی ہے ،
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 مولانا ظفر علی خاں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *