2nd Year Urdu Sabaq 6 Pehli Fatah MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 6

1. بصرہ سے روانہ ہوتے وقت اسلامی لشکر کی تعداد کتنی تھی؟

 
 
 
 

2. سبق ” پہلی فتح” کے مصنف کا نام کیا ہے؟

 
 
 
 

3. قلعہ فتح کرنے کو روانگی سے قبل محمد بن قاسم نے کسے اپنا جانشین مقرر کیا ؟

 
 
 
 

4. سبق پہلی فتح ، کس کتاب سے لیا گیا ہے؟

 
 
 
 

5. بھیم سنگھ کی گوریلا جنگ کس کے لیے خطر ناک بن گئی تھی ؟

 
 
 
 

6. محمد بن قاسم کے لشکر میں پیادہ فوجی کتنے تھے؟

 
 
 
 

7. حجاج بن یوسف نے جو وفد دیبل بھیجا’ دیبل کے گورنر نے ان سے کیا سلوک کیا ؟

 
 
 
 

8. جنگ قادسیہ میں ایرانیوں کی شکست کی وجہ کیا تھی ؟

 
 
 
 

9. وہ بے کس اور مظلوم لڑکی کون تھی جس نے حجاج بن یوسف کو خط لکھا تھا؟

 
 
 
 

10. محمد بن قاسم نے بصرہ میں کتنے دن قیام کیا ؟

 
 
 
 

11. دمشق سے روانہ ہوتے وقت محمد بن قاسم کے لشکر میں کتنے لوگ تھے؟

 
 
 
 

12. محمد بن قاسم کے لشکر میں کتنے لوگ گھڑ سوار تھے؟

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 صبح کی نماز کے بعد دمشق کے لوگ بازاروں اور مکانوں کی چھتوں پر کھڑے محمد بن قاسم کی فوج کا جلوس دیکھ رہے تھے ۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ فوج کی قیادت ایک سترہ سالہ نوجوان کے سپر دھی ۔ دمشق سے لے کر بصرہ تک راستے کے ہر شہر اور بستی سے کئی کم سن لڑ کے ، نو جوان اور بوڑھے اس فوج میں شامل ہوۓ ۔کوفہ اور بصرہ میں محمد بن قاسم کی روانگی کی اطلاع مل چکی تھی اور نو جوان عورتیں اپنے شوہروں ، مائیں اپنے بیٹوں اور لڑکیاں اپنے بھائیوں کو نو جوان سالار کا ساتھ دینے کے لیے تیار رہنے پر آمادہ کر رہی تھیں
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 محمد بن قاسم نے بصرہ میں تین دن قیام کیا۔ اس کی آمد سے پہلے بصرہ میں حجاج بن یوسف کے پاس مکران کے گورنرمحمد بن ہارون کا یہ پیغام پہنچ چکا تھا کہ عبید اللہ کی قیادت میں میں آدمیوں کا جو وفد دیبل بھیجا گیا تھا ، اس میں سے صرف دونو جوان جان بچا کر مکران پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ باقی تمام دیبل کے گورنر نے قتل کر دیے ہیں ۔ اس خبر نے بصرہ کے عوام میں انتقام کی سلگتی ہوئی آگ پر تیل کا کام دیا۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 دمشق سے روانگی کے وقت محمد بن قاسم کی فوج کی تعدادکل پانچ ہزار تھی لیکن جب وہ بھرے سے روانہ ہوا تو اس کے لشکر کی مجموعی تعداد بارہ ہزارتھی جن میں سے چھے ہزار سپاہی گھڑ سوار تھے، تین ہزار پیدل اور تین ہزار سامان رسد کے اونٹوں کے ساتھ تھے۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 محمد بن قاسم نے یہ دیکھ کر ہراول کے پیادہ دستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیالیکن حملہ آوروں کی ایک جماعت آگے سے کترا کر بھاگتی اور دوسری جماعت پیچھے سے حملہ کر دیتی ۔ایک گروہ کسی ٹیلے پر چڑھ کر لشکر کے دائیں بازو کوا پنی طرف متوجہ کرتا اور دوسرا بائیں بازو پر حملہ کر دیتا۔ جوں جوں محمد بن قاسم کی فوج آگے بڑھتی گئی ، ان حملوں کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا ۔ رات کے وقت پڑاؤ ڈالنے کے بعد شب خون کے ڈر سے کم از کم ایک چوتھائی فوج کو آس پاس کے ٹیلوں پر قابض ہوکر پہرہ دینا پڑتا ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 مسلمانوں کے پہاڑی علاقے میں داخل ہوتے ہی بھیم سنگھ کے سپاہیوں نے انکار کا حملے شروع کر دیے۔ میں چالیس سپاہیوں کا گروہ اچا تک کسی ٹیلے یا پہاڑی کی چوٹی پر نمودار ہوتا اور آن کی آن میں محمد بن قاسم کی فوج کے کسی حصے پر تیر اور پتھر برسا کر غائب ہو جا تا ۔ گھوڑوں کے سوار ادھر ادھر ہٹ کر اپنا بچاؤ کر لیتے لیکن شتر سوار دستوں کے لیے یہ حملے بڑی حد تک پریشان کن ثابت ہوۓ ۔ بعض اوقات بدک کر ادھر ادھر بھاگنے والے اونٹوں کو منظم کر نا حملہ کرنے والوں کے تعاقب سے زیادہ مشکل ہو جا تا ۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 پہلی فتح

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *