2nd Year Urdu Sabaq 5 Akbari ki Hamaqtain MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 5

1. زلفن کون تھی؟

 
 
 
 

2. بھوپال کی بیگم کا نام کیا تھا؟

 
 
 
 

3. شاہ صاحب نے بلقیس جہانی بیگم کو کہاں جانے کو کہا؟

 
 
 
 

4. سبق اکبری کی حماقتیں کس کی تحریر ہے؟

 
 
 
 

5. حجن  اپنی بھانجی کے لیے کہاں سے آئی تھی؟

 
 
 
 

6. حجن  اور کس کو دھوکا دے کر زیور لے اڑی؟

 
 
 
 

7. اکبری کس  قسم  کی لڑکی تھی؟

 
 
 
 

8. ناک کی کیل کہاں رکھی رہ گئی تھی؟

 
 
 
 

9. مزاج دار کون ہے؟

 
 
 
 

10. حجن نے اکبری کولونگ کہاں رکھنے کو کہا؟

 
 
 
 

11. اکبری کے خاوند کانام کیا تھا

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 غرض پہلی ہی ملاقات میں مزاج دار نے حجن کے ساتھ ایسی بے تکلفی کی کہ اپنا حال جز ووکل اس سے کہ دیا اور مجن نے باتوں ہی باتوں میں تمام بھید معلوم کر لیا۔ ایک پہر کامل مجن بیٹھی رہی ۔ رخصت ہونے لگی تو مزاج دار نے بہت منت کی کہ اچھی بی حجن ، اب کب آؤ گی ؟ جن نے کہا: ” میری بھانجی موم گروں کے چھتے میں رہتی ہے اور بہت بیمار ہے ۔اس کے علاج کے واسطے میں آ گرے سے آئی ہوں ۔ اس کے دوامعالجے سے فرصت کم ہوتی ہے مگر ان شاء اللہ دوسرے تیسرے دن تم کو دیکھ جایا کروں گی ۔‘‘
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 سرمہ اور نادعلی دو چیز یں پسند کیں ۔حجن نے مزاج دار کو باتوں ہی باتوں میں تاڑ لیا کہ یہ عورت جلد ڈھب پر چڑھ جاۓ گی ۔ایک پیسے کا بہت سا سرمہ تول دیا اور دو آنے کو نا دیلی حوالے کی اور فیروزے کی ایک انگوٹھی تبرک کے طور پر اپنے پاس سے مفت دی ۔مزاج دار ریجھ گئی ۔اس کے بعد مجن نے سمندر کا حال ، عرب کی کیفیت اور دل سے جوڑ کر دو چار باتیں ایسی کیں کہ مزاج دار نے کمال شوق سے سنا اور اس کی طرف ایک خاص التفات کیا۔ مجن نے پوچھا ’’ کیوں بی تمھارے کوئی بال بچ نہیں؟‘‘
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوا کیں ۔ چلتے ہوۓ مجن نے ایک بٹوا نکالا ، اس میں کپڑے اور کاغذ کی کئی تہوں میں تھوڑی لونگیں تھیں ،ان میں سے دولونگیں مجن نے مزاج دار کود میں اور کہا کہ دنیا میں ملاقات اور محبت اس واسطے ہوا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کو فائدہ ہو، یہ دولونگیں میں تم کو دیتی ہوں ، ایک تو تم اپنی چوٹی میں باندھ لو، دوسری بہتر تھا کہ تمھارے میاں کی پگڑی میں رہتی ، پر تمھارے میاں شاید شبہ کر میں ، خیر تکیے میں سی دواوران کا اثر آج ہی دیکھ لینا لیکن اتنی احتیاط کرنا کہ پاک صاف جگہ میں رہیں اور اپنے قد کے برابر ایک کلا وہ مجھ کو ناپ دو۔ میں تم کو ایک گنڈ اینوالا دوں گی۔ میں جب حج کو ئی تھی تو اسی جہاز میں ایک بھوپال کی بیگم بھی سوار تھیں
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 یہ کہ کر سرمہ ، نا دعلی ، فیروزے کی انگوٹھی بھی مزاج دار نے دکھائی ۔ طمع ایسی چیز ہے کہ بڑا سیا نا آ دمی بھی دھوکا کھا جا تا ہے ۔ جنگلی جانور، مینا، طوطا ، لال ، بلبل آ دمی کی شکل سے بھاگتے ہیں لیکن دانے کی طمع سے جال میں پھنس جاتے ہیں اور زندگی بھرقفس میں قید رہتے ہیں ۔ اسی طرح محد عاقل اپنا فائدہ دیکھ کر خوش ہوا اور جب مزاج دار نے کہا کہ وہ جن بیگم کا تمام اسباب جو بکنے کو نکلے گا، میرے پاس لانے کا وعدہ کرگئی ہے تو محمد عاقل نے کہا : ” ضرور دیکھنا چاہیے، لیکن ایسا نہ ہو چوری کا مال ہو، پیچھے خرابی پڑے اور ہاں جن کوئی ٹھگنی نہ ہو ۔‘‘
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 غرض بات گئی گزری ہوئی ۔ محمد عاقل سے جو آج ایسی باتیں ہوئیں، لوگوں پر مزاج دار کا اعتقاد جم گیا۔اگلے دن زلفن کو بھیج حجن کو بلوایا اور آج مزاج دار بیٹی بنیں اور مجن کو ماں بنایا ۔ رات کے وقت محمد عاقل سے پھر جن کا ذکر آیا۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 اکبری کی حماقتیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *