2nd Year Urdu Sabaq 4 Mehnat Pasand Khird Mand MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 4

1. احتیاج و افلاس کی بلا سے تنگ آ کر لوگ کس کے پاس گئے؟

 
 
 
 

2. لوگوں کی محنت کا نتیجہ کیا نکلا؟

 
 
 
 

3. محنت پسندکس کا شاگردتھا؟

 
 
 
 

4.  سبق محنت پسند خردمند کس کتاب سے لیا        گیا ہے؟

 
 
 
 

5. محنت پسند کو کس نے پالا تھا؟

 
 
 
 

6.  احتیاج اور افلاس کے بیٹے کا نام کیا تھا؟

 
 
 
 

7. سبق محنت پسند خردمند کے مصنف کا نام  کیا ہے  ؟

 
 
 
 

8. موسموں اور حالات کے بدلنے سے کون سی بڑی مصیبت آپڑی؟

 
 
 
 

9. محنت پسند خردمند نے کسی کا دودھ پی رکھا تھا؟

 
 
 
 

10. خرد آرام کے زمانے میں کون سا موسم ہوتا تھا؟

 
 
 
 

11. مسرت اور بے فکری کے دنوں میں انسان کہاں نہاتے تھے؟

 
 
 
 

12. جب لوگ احتیاج اور افلاس کے معتقد ہو گئے تو موسم پر کیا اثر پڑا؟

 
 
 
 

13. کون انسانوں کو جنگلوں اور پہاڑوں میں لے گیا؟

 
 
 
 

14. انسان نے خردو آرام کی اطاعت چھوڑ کر کسی کی طرف رجوع کیا؟

 
 
 
 

15. خردو آرام سے لوگوں نے منہ موڑ ا تو زمین میں کیا تبدیلی آئی؟

 
 
 
 

16. چشموں سے لوگ پانی کیسے پیتے تھے؟

 
 
 
 

17. تدبیر اور مشورہ کسی درخت میں جھولا ڈال کر جھولا کرتے تھے؟

 
 
 
 

18. جب انسان گناہ اور بدی سے پاک تھا تو اس کی زندگی کیسی تھی؟

 
 
 
 

19. تدبیر اور مشورہ حالات بدلنے کے بعد کہاں چلے گئے؟

 
 
 
 

20. محنت پسند کے خردو آرام کے بارے میں خیالات  کیسے تھے؟

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 اتفاقاً ایک میدان وسیع میں تختہ پھولوں کا کھلا کہ اس سے عالم مہک گیا مگر ہو اس کی گرم اور تیز تھی ۔ تاثیر یہ ہوئی کہ لوگوں کی طبیعتیں بدل گئیں اور ہر ایک کے دل میں خود بخود یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ سامان عیش و آرام کا جو کچھ ہے میرے ہی کام آۓ اور کے پاس نہ جاۓ ۔ اس غرض سے اس گلزار میں گلگشت کے بہانے کبھی تو فریب کے جاسوس اور کبھی سینہ زوری کے شیاطین آ کر چالاکیاں دکھانے لگے، پھر تو چند روز کے بعد ان کی ذاریات یعنی غارت ، تا راج ، لوٹ مار آن پہنچے اور ڈاکے مارنے لگی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 اس بد نیتی کی سزا یہ ہوئی کہ احتیاج اور افلاس نے بز رگا نہ لباس پہنا اور ایک پیر زادے بن کر آۓ ۔حضرت انسان ، که طمع خام کے خمیر تھے، خسر و آرام کی عقیدت چھوڑ کر ان کی طرف رجوع ہوۓ ۔ چنانچہ سب ان کے مرید اور معتقد ہو گئے اور ہر شخص اپنے تئیں حاجت مند ظاہر کر کے فخر کرنے لگا۔ مقام افسوس یہ ہے کہ اس بد نیت نحس قدم کے آنے سے ملک فراغ کا رنگ بالکل بدل گیا۔ یعنی انواع واقسام کی حاجتوں نے لوگوں کو آن گھیرا۔ سال میں چار موسم ہو گئے ، زمین بنجر ہوگئی ، میوے کم ہونے لگے۔ساگ پات اور موٹی قسم کے نباتات پر گزران ٹھہری ۔ خزاں کے موسم میں کچھ بڑے بھلے اناج بھی پیدا ہونے لگے
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 عالم کا رنگ بے رنگ دیکھ کر تد بیر اور مشورہ دو تجربہ کار دنیا سے کنارہ کش ہو گئے تھے اور ایک سیب کے درخت میں جھولا ڈالے الگ باغ میں تھو لا کرتے تھے، البتہ جو صاحب ضرورت ان کے پاس جاتا ، اسے صلاح مناسب بتا دیا کرتے تھے۔ یہ سب مل کر ان کے پاس گئے کہ براۓ خدا کوئی ایسی راہ نکالیے جس سے احتیاج و افلاس کی بلا سے بندگان خدا کو نجات ہو ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 وہ انھیں دیکھتے ہی ہنسا اور ایک قہقہہ مار کر پکارا کہ آ ؤانسانو ! نا دانو! آرام کے بندو! عیش کے پابندو! آؤ 1 آج سے تم ہمارے سپر د ہوۓ ۔اب تمھاری خوشی کی امید اور بچاؤ کی راہ اگر ہے تو ہمارے ہاتھ ہے ۔ خسر و آرام ایک کمزور ، کام چور ، بے ہمت ، کم حوصلہ بھولا بھالا ، سب کے منہ کا نوالہ تھا ، نہ تمھیں سنبھال سکا ، نہ مصیبت سے نکال سکا ۔ بیماری اور قحط سالی کا ایک ریلا بھی نہ ٹال سکا۔ پہلے ہی حملے میں تمھیں چھوڑ دیا اور ایسا بھا گا کہ پھر مڑ کر نہ دیکھا۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 الغرض ہمت اور تحمل ان سب کو جنگلوں اور پہاڑوں میں لے گئے ۔ کانوں کا کھودنا، اتار چڑھاؤ ہموار کرنا ، تالابوں سے پانی سینچتا ، دریاؤں کی دھاروں کا رخ پھیرنا، سب سکھایا۔ لوگوں کے دلوں پر اس کی بات کا ایسا اثر ہوا تھا کہ سب دفعۂ کمر میں باندھ ، آنکھیں بند کر ، دیمک کی طرح روۓ زمین کو لپٹ گئے ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 غرض ان باتوں سے سب کے دلوں کو لبھالیا۔ وہ بھی سمجھے کہ محنت پسند خردمند بنی آدم کا خیر خواہ ہمارا دلی دوست ہے۔ ہاتھ جوڑ جوڑ اس کے پاؤں پر گرے۔ ہمت اور تحمل اس کے پہلو میں کھڑے تھے۔ اس وقت انھیں جماعت مذکور پرافسر کر دیا۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 محنت پسند خرد مند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *