2nd Year Urdu Sabaq 2 Tashkeel e Pakistan MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 2

1. سبق تشکیل پاکستان کے مصنف کا نام کیا ہے؟

 
 
 
 

2. فارسی زبان کوکس سنہ میں عدالتوں سے خارج کیا گیا؟

 
 
 
 

3. پشاور کے قریب ہونے والی جنگ میں مجاہدین کی تعداد کتنے ہزارتھی؟

 
 
 
 

4. کس پر خلوص شخص نے پندرہ سال مسلمانوں کی مذہبی  و معاشرتی خرابیاں دور کرنے کی کوشش کی؟

 
 
 
 

5. میاں بشیر احمد کا سنہ پیدائش کیا

 
 
 
 

6. مسلم لیگ کا قیام کب عمل میں لایا گیا؟

 
 
 
 

7. سرسید احمد خاں کا انتقال کب ہوا؟

 
 
 
 

8. انڈین نیشنل کا نگرس کی بنیاد کب پڑی؟

 
 
 
 

9. گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کب نافذ ہوا؟

 
 
 
 

10. تقسیم بنگال کی تنسیخ کب ہوئی؟

 
 
 
 

11. میاں بشیر احمد کس سنہ میں فات ہوئے

 
 
 
 

12. آل انڈیا محمد ن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد کس نے رکھی؟

 
 
 
 

13. سید احمد بریلوی نے سکھوں کے خلاف مذہبی جہاد کی مہم کب شروع کی؟

 
 
 
 

14. جمعیت العلماء کا وجودکب عمل  میں آیا؟

 
 
 
 

15. ندوۃ العلماہ کہاں قائم ہے

 
 
 
 

16. سید احمد بریلوی  کب شہید ہوئے؟

 
 
 
 

17. علی گڑھ کاج کو کب یونیورسٹی کا درجہ ملا؟

 
 
 
 

18. ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کا منصوبہ کب شائع کیا گیا؟

 
 
 
 

19. انگریز دیلی میں کب داخل ہوئے؟

 
 
 
 

20. علی گڑھ کالج کا افتتاح کب ہوا؟

 
 
 
 

21. سرسید احمد خاں کے جاری کردہ رسالے کا نام کیا تھا؟

 
 
 
 

22. ہندوستان کے لیے سیلف گورنمنٹ کا مطالبہ کب کیا گیا؟

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 سیاسی تنزل اور معاشرتی تخریب کے اس نازک وقت میں ایک پر خلوص مصلح سید احمد بریلوی پیدا ہوۓ جنھوں نے ۱۸۱۶ء سے ۱۸۳۱ء تک پندرہ سال مسلمانوں کی مذہبی ومعاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کی پوری کوشش کی ۔ اس سلسلے میں مذہبی آزادی کے حصول کے لیے انھوں نے ۱۸۲۶ء میں سکھوں کے خلاف مذہبی جہاد کی مہم بھی شروع کی جس کے آخر میں سات ہزار مجاہدین نے پشاور کے قریب میدان جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور سید احمد نے ایک نظام حکومت قائم کر کے قبائل کی معاشرتی اصلاح کے احکام نافذ کیے لیکن بعض سرداروں کی غداری سے ، جو سکھوں کے ساتھ شریک ہو گئے
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل گئی ۔ انگریزی حکومت سوسال سے ان کی ذلت کے در پے تھی ۔ بتدریج مسلمانوں کی زمینیں اور عہدے چھین لیے گئے ، اسلامی تعلیم کے ذرائع ختم کر دیے گئے اور ۱۸۳۷ء میں فارسی زبان عدالتوں سے خارج کر دی گئی ۔ ۱۸۵۷ء کے بعد ان پر عتاب اور دباؤ بڑھتا گیا۔ اس طرح مسلمان پسپا بھی ہوۓ اور ان مظالم سے متاثر ہو کر نئی حکومت اور اس کے اداروں سے بیزار بھی ہوتے گئے ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 سرسید نے قدامت پسند مسلمانوں کو نئے زمانے کی ضروریات سے آگاہ کیا اور ہزار دقتوں سے ان کو نئے علوم کے حصول اور نئی حکومت سے تعاون پر آمادہ کیا۔ اپنی مذہبی تصانیف اور رسالہ ” تہذیب الاخلاق‘‘ کے اجرا سے انھوں نے ثابت کر دکھایا کہ اسلام عقل کے اصولوں پرمبنی ہے ۔ ان کی تعلیمی مساعی ۱۸۷۷ء میں تکمیل کو پہنچیں جب علی گڑھ کالج کا افتتاح ہوا جو کم از کم تھیں برس تک مسلمانان ہند کا واحد قومی مرکز بنا رہا ۔۱۸۸۴ء میں سرسید نے پنجاب کا دورہ کیا ۔ جہاں’’ زند و دلان پنجاب‘‘ کی قدردانی سے ان کو بڑی تقویت پہنچی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 علی گڑھ تحریک کی وجہ سے قوم میں کئی اور تحریکات شروع ہو گئیں ۔ اختلافات ضرور رونما ہوئے لیکن ایک حد تک بینی زندگی کا نشان تھے ۔سرسید امیر علی اور دیگر بزرگوں نے اسلام کو مغربی علوم سے اس طرح جاملایا تھا کہ اسے ایک ترقی یافتہ مذہب ثابت کیا لیکن اس جدید علم الکلام کے ردعمل کے طور پر بعض اور مذہبی مساعی بروۓ کار آ ئیں ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 سرسید کے بعد ان کے رفقانے ان کا شاندار کام جاری رکھا۔ محسن الملک ، وقار الملک،حالی، نذیراحمد ، ذکاءاللہ ٹیلی وغیرہ نے تعلیمی، سیاسی اور ادبی خدمات سر انجام دیں ۔ محسن الملک نے علی گڑھ کالج کو ترقی دی ۔ وقار الملک ایک سیاسی جماعت کی تشکیل میں معادن ہوۓ ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگرس کی بنا پڑی۔ سرسید نے مسلمانوں کو اس میں شرکت کرنے سے روکا کیونکہ ان کی دوراندیشی نے دیکھ لیا کہ اس سے مسلمانوں کو بحیثیت قوم نقصان پہنچے گا۔ اپنے ایک اہم بیان میں انھوں نے کہا کہ جمہوری طریقہ ہندوستان کے لیے موزوں نہیں ۔ یہ امر قابل غور ہے کہ سرسید کے پیش نظر انگریزوں کی خوشنودی نیتھی بلکہ اپنی قوم کی ترقی تھی ۔حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے اپنی مشہور تصنیف’’اسباب بغاوت ہند‘‘ لکھ کر حکومت کو توجہ دلائی کہ غدر کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو ملک کی سیاسی کونسلوں میں شامل نہ کیا گیا۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 اقبال نے آ کر اسلامی ومغربی علوم کے غائر مطالعے کے بعد اپنا خاص اسلامی فلسفہ قوم کے سامنے پیش کیا ، جس کا مقصد کامل ترین انسان کی انفرادی واجتماعی نشو و نما ہے ۔ اقبال کا خیال ہے کہ انسان اطاعت ، ضبط نفس اور نیابت الہی کی تین منزلیں طے کرتا ہوا خودی کی انتہائی بلندی پر پہنچ سکتا ہے ۔ اس ارتقا میں اسے مذہب کی رہنمائی درکار ہے۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ان مساعی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب سے بیگانگی بہت حد تک کم ہوگئی اور مغرب کی ذہنی غلامی سے نجات ملی لیکن ساتھ ہی ایک ایسی فضا بھی پیدا ہوگئی جس میں اپنی ہر چیز اچھی اور دوسروں کی ہر چیز بری نظر آنے لگی ۔ اس کی اصلاح ضروری ہوگئی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 پاکستان کی تجویز کے بعد اس منصوبے کو تفصیل سے مکمل کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ چنانچہ ۱۹۴۴ء میں معاشی مسئلے پر غور کرنے کے لیے ایک تعمیری کمیٹی وضع کی گئی تعلیمی مسئلے کے لیے ایک تعلیمی کمیٹی بنی اور دیگر اہم مسائل کے لیے مصنفین کی ایک کمیٹی بنائی گئی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ۱۹۴۴ء میں پنجاب میں مسلم لیگ اور یونینسٹ وزارت میں جھگڑا پیدا ہو گیا اور بمبئی میں گاندھی اور جناح کی ملاقات ہوئی مگر ناکام رہی ۔ ۱۹۴۵ء میں شملہ کانفرنس میں کانگریس اور لیگ کو پھر اکٹھا بلایا گیا مگر کچھ نتیجہ نہ نکلا ۔ آخرحکومت ہند نے نئے انتخابات کا اعلان کیا اور کہا کہ برطانوی مزدور حکومت کے کے پیش نظر ہندوستان کو خود اختیاری حکومت دینا ہے۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 تشکیلِ پاکستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *