2nd Year Urdu Sabaq 14 Ayub Abbasi MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 14

1. ایوب صاحب کا مکان بارہ مہینے کیا بنا رہتا ؟

 
 
 
 

2. مصنف نے ایوب عباسی کو قرار دیا ہے ۔

 
 
 
 

3. ایوب صاحب سے ہر چھوٹا بڑا……… کرتا تھا۔

 
 
 
 

4. ایوب عباسی نے کس بات پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا؟

 
 
 
 

5. سبق ایوب عباسی‘‘ کے مصنف کا نام کیا ہے؟

 
 
 
 

6. سبق’’ایوب عباسی‘‘ کس کتاب سے لیا گیا ہے؟

 
 
 
 

7. ایوب عباسی سٹرائیک کے دنوں میں کیا کردار ادا کرتا؟

 
 
 
 

8. ایوب عباس میں بظاہر کوئی بات. . . . . . . .. نہ تھی۔

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 وہ موجود تھے تو ان کی مثال نعائم فطرت کی تھی مثلا : ہوا، پانی ، روشنی جو اس درجہ عام وارزاں ہیں کہ ان کی طرف توجہ مائل نہیں ہوتی لیکن ان میں سے کسی میں کہیں سے کوئی فرق آ جاۓ تو پھر دیکھیے کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور یہی نا قابل التفات چیز میں کیسی نعمتیں بن جاتی ہیں ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ایوب ایسے ہی تھے ۔ وہ دوستوں کی زندگی میں اس طرح اور اس درجہ گھل مل گئے کہ ہم سب کو ان کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوتا لیکن جب وہ ہم سے رخصت ہو گئے تو ہم میں سے ہر ایک نے یہ محسوس کیا کہ جو چیز نا قابل التفات حد تک ارزاں و عام تھی وہی نا قابل بیان حد تک اچھی ضروری اور نایاب تھی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ہم سب کی زندگیوں میں مرحوم کے گھل مل جانے کا راز یہ تھا کہ ان میں بظاہر کوئی بات غیر معمولی پیتھی ۔ وہ غیر معمولی قابلیت کے آدمی نہ تھے، دولت مند نہ تھے، کچھ بہت ذہین بھی نہ تھے ۔ نہانھیں توڑ جوڑ آ تا تھا ، نہ خوش پوشاک، نہ خوش گفتار ، نه خوش باش ، نه نگین درعنا ۔ وہ معمولی آدمیوں سے بھی زیادہ معمولی تھے ۔ پھر بھی وہ ایسے تھے کہ اب ہم میں و یا کوئی اور نہ اب ڈھونڈے سے بھی کوئی ایسا ملے ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 مجھ پر میرے بچوں پر میرے دوستوں پر اور میرے خاندان پر جان نچھٹر کتے تھے ۔خوشی کی بات ہو تو ایوب صاحب سب سے پہلے موجود اور سب سے زیادہ خوش ۔ رنج وتر ز دکا موقع ہوتو سب سے پہلے حاضر ۔ بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں ، کسی کو خاطر میں نہیں لاتے ، یا ہر شخص کی خوشامد کر رہے ہیں ۔خوشی میں ہر طرح کے جملے سر کر رہے ہیں اور اپنی مسرت کا طرح طرح سے اظہار کر رہے ہیں ۔ رنج و مایوسی کا موقع ہو تو ایک حرف زبان پر نہیں ، نہ تسکین کا ، نہ تقویت کا ، چپ چاپ بیٹھے سراپا کا جائزہ لے رہے ہیں یا محبت و ہمدردی سے بے اختیار ہو ہو کر منہ تک رہے ہیں ۔ ذرا بھی احتمال ہوا کہ کسی کا آنا یاکسی معاملے میں میرا دل میرے لیے تکلیف دہ ہوگا تو اسے پہلے ہی سے بھانپ کر کسی نہ کسی طرح اس کا سد باب کر دیا اور اس طرح کرنا کہ مجھے کانوں کان خبر نہ ہو ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 سیاہ فام ، چیچک رو، پست قد نحیف الجھ ۔ پہلے پہل کوئی دیکھے تو منہ پھیر لے، برت لے تو غلام بن جاۓ ۔ میں بتا نہیں سکتا کہ ایوب کی خوبیوں نے ان کی بد ہیتی کوکس درجہ دل آویز بنا دیا تھا۔ میری ہی نہیں میرے عزیزوں اور دوستوں کی بھی ان سے بڑی پرانی ملاقات چلی آتی تھی اور میں نہیں بتا سکتا کہ ہم سب کی زندگی میں ایوب کس قدر دخیل تھے اور ان کی موت نے ہم سب کو کیسا بے قرار و مایوس اور کس درجہ بے دست و پا کر دیا۔ سب جانتے ہیں کہ ان کی جدائی کا جوالم مجھے ہے اس سے کم دوسروں کو نہیں ہے ۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے، اس پیکر حقیر میں دل سوزی وخود سپاری کا کیسا بے کراں و بیش قیمت خزانہ و د بیعت تھا۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ایوب صاحب یو نیورسٹی کے معاملات یا الجھنوں سے ہمیشہ علیحدہ رہتے اور حتی المقدور اپنے دوستوں کو بھی علیحدہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس قسم کے مسائل پر انھوں نے مجھ سے گفتگو نہ کی کبھی فرصت ہوتی اور یقین ہوا کہ میں گھبراؤں گانہیں تو وہ اپنے خاندانی قضیوں کا تذکرہ چھیڑتے اور جو کچھ دل میں ہوتا، بیان کر دیتے ۔ میں ان کی الجھنوں کو ہمدردی اور توجہ سے سنتا تو ایسا محسوس کرتے جیسے ان کا جی ہلکا اور ان کے دکھ درد کا مداوا ہو گیا۔ وہ اپنے رشتے داروں سے کچھ بہت زیادہ راضی نہ تھے
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 میرا اور میرے دوستوں کا یہ حال تھا کہ ہاتھ پاؤں ہلانا نہ ہو اور ایوب سب کام کر دے ۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی تھیں جن کی تمام تر ذمے داری ہمیں پر ہوتی لیکن اس سے بہ ذات خود عہدہ برآ ہونے کے بجائے یا اس میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہو تو ہم سب ایوب صاحب ہی پر بگڑتے تھے اور بہانے نکال نکال کر انھیں سخت سست کہتے تھے۔ ایوب صاحب معمولی ملگجی شیروانی پہنے ،ٹوٹا پھوٹا جوتا میلا سامفلر گلے میں لپیٹے جلدی جلدی چلے آ رہے ہیں ۔ ہاۓ ان کا وہ چھوٹا سا قد ،مشکل سے پانچ فٹ ،مشغول ومنہمک مفلر جلدی جلدی کھو لتے لیٹتے ، راستے میں ہر ایک سے کچھ کہتے سنتے ،گرتے پڑتے چلے آرہے ہیں ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 پرووسٹ کے دفتر میں سب سے اہم عہدہ پر ہونے کے سبب ان کا سابقہ اسا تذہ ، بیرا، باور چی ، نائی ، چپراسی ، بھنگی بہشتی سب ہی سے براہ راست پڑتا تھا۔ طلبہ کوخوش اور مطمئن رکھنا معمولی بات نہیں ہے ۔ ان کا ایوب صاحب سے طرح طرح سے سابقہ پڑتا تھا ۔ وہ ہر طالب علم کے خاندانی حالات و معاملات سے واقف رہتے تھے اور اسی اعتبار سے ان سے سلوک کرتے تھے۔ اس لیے ہر طالب علم ان کو اپنے گھر کے بزرگ اور خیر اندیش کی حیثیت سے دیکھتا تھا۔ یو نیورسٹی میں اسٹرائیک ہے ۔لڑ کے ہیں کہ بے قابو ہوۓ جاتے ہیں لیکن ایوب صاحب کا جادو برابر کام کر رہا ہے ۔ایسے زمانے میں ان کا طر زیمل لڑکوں سے وہی ہوتا جو میدان جنگ میں صلیب احمر کا ہوتا ہے ۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 ایوب عباسی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *