2nd Year Urdu Sabaq 13 Aik Safarnama Jo Kahin ka Bhi nahi MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 13

1. پشاور میں مصنف کے مطابق پی آئی اے کا دفتر کس ہوٹل میں تھا؟

 
 
 
 

2. کابل کے لیے پرواز روانہ ہوئی اور طیارہ کس ہوائی اڈے پر اترا؟

 
 
 
 

3. مصنف کی کابل کی پرواز کابل ایئر پورٹ پر کیوں نہ اترسکی؟

 
 
 
 

4. SAS کس ملک کی ایئر لائن ہے؟

 
 
 
 

5. مصنف کہاں جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے؟

 
 
 
 

6. سبق ’’ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں ہے‘‘ کا مصنف پشاور کے کس ہوٹل میں قیام پذیر رہا؟

 
 
 
 

7. سبق ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں ہے کس کتاب سے لیا گیا ہے؟

 
 
 
 

8. پائلٹ نے دوران پرواز مسافروں کو کس دریا کے بارے میں بتایا؟

 
 
 
 

9. کابل میں کون سی مخلوق نہیں پائی جاتی ؟

 
 
 
 

10. سبق’’ ایک سفرنامہ جو کہیں کا بھی نہیں ہے” کا مصنف کون ہے؟

 
 
 
 

11. امان اللہ خان کی بچھائی ریلوے لائن کیوں اکھاڑ پھینکی گئی؟

 
 
 
 

12. مصنف یہ سطور لکھتے وقت کس شہر میں تھا ؟

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ہم نے سفر نامے بہت لکھے ہیں۔ چین و ماچین کے سفرتا ہے، ایران و ران کے سفر نا ہے، ان جگہوں کے سفرتا ہے جہاں ہم نہیں گئے اور ان وارداتوں کا چشم دید احوال جو ہم نے نہیں دیکھیں۔ انسانوں کو اللہ تعالی نے ٹانگیں بے شک دی ہیں لیکن دماغ بھی تو دیا ہے جس کی اہمیت ٹانگوں کے برابر نہ ہو، بہر حال ہے تو ۔  آج کا سفر نامہ ہے تو سفر نام لیکن اگر کوئی پوچھے کہ کہاں کاہے تو بتا بھی نہیں ۔ آج صبح ہم کابل کے لیے چلے تھے لیکن رات ہوگئی ہے اور کابل پہنچے ہیں ہیں ۔ پہلے راولپنڈی میں لیٹ ہوۓ ، پھر پشاور سے چلنے میں تعویق ہوئی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 در اصل آثار شروع ہی سے ٹھیک نہیں تھے ۔ جب سے کابل جانے کا نالوگ ہمیں برابر ڈرار ہے تھے کہ سردی ہے جانانہیں ، مر جاؤ گے ۔مولانا حامد علی خان نے کہا، میں کابل میں دود و اوور کوٹ پہن کر بھی محسوس کرتا تھا کہ تین زیب کا انگر کھا پہنے ہوۓ ہوں ۔حمید اختر نے نصیحت کی کہ جاتے ہیں وہاں سے نکلا نما افغانی کوٹ خرید لینا ( ورنہ میں نتائج کا ذمہ دار نہ ہوں گا ) ان لوگوں کا ہم ذکر نہیں کرتے جو ہم سے جل کر طعنے تشنے پر اتر آئے تھے ۔ ایک نے تو یہاں تک کہا کہ کیا کامل میں گدھے نہیں ہوتے جوتم وہاں جارہے ہو۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 باوجودفون کرنے کے کوئی دوست پشاور میں نیل سکا لیکن پشاور والوں کی عالی حوصلگی سے ہم کماکہ ، متاثر ہو چکے ہیں ۔ ہمیں پی آئی اے کے دفتر جانا تھا۔ کسی نے بتایا کہ انٹرنیشنل ہوٹل میں ہے۔ ہم نے اپنے ہوٹل کے کاؤنٹر پر جا کر پوچھا کہ کتنی دور ہے یہ جگہ؟ تو کا ؤنٹر کلرک نے بتایا کہ جناب بالکل ہمارے پچھواڑے ہے ، بس کوئی ایک فرلانگ ہوگی ۔ آپ ہوٹل کے دروازے سے نکل کر بڑی سڑک پر آئے اور بائیں ہاتھ کو چلیے بس سامنے ہی ہے ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 جب ہم اس ہدایت کے مطابق کوئی پون میل کی مسافت طے کر چکے تو ایک صاحب سے پوچھا۔ انھوں نے کہا، بی آئی اے کا دفتر ! ابھی وہ تو میر ہا۔ آپ کو اس راستے پر ایک سنیما ملے گا ، اس کے بعد بس پی آئی اے کا دفتر ہے اور واقعی اس جگہ سے کوئی آدھ میں آگے ہمیں وہ دفتر مل گیا۔ یہ جگہ واقعی ڈین ہوٹل کے پچھواڑے میں ہے
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 بولے، مجھے افسوس ہے کہ میں نے ساری عمر ڈنمارک میں گزار کر اسی نور آج تک نہیں دیکھا۔ ہم نے یہ کہ کر ان کی ڈھارس بندھائی کہ ہم نے بھی کراچی میں آدھی عمر گزار دی ہے لیکن منگھو پیر نہیں گئے ۔ زیادہ تفصیل میں ہم نہیں گئے تا کہ ہمارا منگھو پیران کے السی نور کے مقابلے میں کچا نہ پڑ جاۓ ۔ سی ڈاکٹر گلبرگ تھے
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ڈاکٹر گلبرگ دوا دار و والے ڈاکٹر ہیں لیکن نسخوں کے علاوہ کتا بیں بھی لکھتے ہیں اور یہی ہماری ان سے دوستی کی وجہ ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی کتاب’’اسکیموڈاکٹر برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ کئی ملکوں میں چھپ چکی ہے ۔ ہم نے ریڈر ڈائجسٹ میں اس کا ذکر یا خلاصہ پڑھا تھا اور کچھ کچھ یاد تھا۔ یہ سن کر وہ اور خوش ہوا اور اپنی بی بی سے کہا۔ دیکھو یہ شخص کتنا پڑھا لکھا ہے اس نے غیڈ ن ڈائجسٹ میں میری کتاب کا ذکر پڑھا ہے ۔ فرانسیسیوں کی طرح ’’‘‘ کا تلفظ وہ ہمیشہ ’’غ ہی کرتے رہے۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 پاکستانیوں خصوصا پشاور والوں کے یہ بہت معترف تھے کہ بڑے تپاک اور خلوص سے ملتے ہیں ۔ پی آئی اے کی خاص طور پر تعریف کرتے تھے کہ اس کے آدمی بہت خلیق اور متواضع ہیں۔ ہاں اپنے پیشاور والے ہوٹل کے نام سے بے مزا ہوتے تھے۔ کہتے تھے یہ نظر بنو ہے تا کہ پاکستان کو نظر نہ لگ جائے ۔ دیکھو کابل ہوٹل میں یہ چار ڈالر روزانہ کا کتنا اچھا کمرہ ہے ۔ اسے گرم رکھنے کا مرکزی نظام بھی ہے ۔ قالین ،فرنیچر ، سروس بھی کچھ معقول ۔ پشاور میں میں تین روز رہا اور اس باوا آدم کے زمانے کے کمرے کے تیرہ ڈالر روزانہ دیتا رہا۔ یہی نہیں ان لوگوں نے پانچ روپے روزانہ اس لکڑی کے بھی  مجھ سے وصول کیے جو کمرہ گرم رکھنے یا اس میں دھواں پھیلانے کے لیے روزانہ جلانی پڑتی تھی ۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 ایک سفر نامہ جو کہیں کا بھی نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *