2nd Year Urdu Sabaq 12 Molvi Nazeer Ahmad Delhvi MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 12

1. مولوی نذیر احمد کی ٹکر کا دوسرا مقرر کون تھا؟

 
 
 
 

2. مولوی نذیر احمد کہاں سے پینشن لے کر دلی آئے؟

 
 
 
 

3. مولوی نذیر احمد کے لیے حیدرآباددکن میں کون سا خطاب تجویز ہوا تھا ؟

 
 
 
 

4. سبق مولوی نذیر احمد دہلوی‘‘ کس مصنف نے لکھا ہے؟

 
 
 
 

5. سرسید احمد خان مولوی نذیر احمد دہلوی سے کتنے سال بڑے تھے؟

 
 
 
 

6. مولوی نذیر احمد کوترجمة القرآن لکھتے کتنا وقت لگا ؟

 
 
 
 

7. مصنف کہاں سے آ کر دلی میں دادا ابو سے ملے؟

 
 
 
 

8. مصنف نے کتنے برس کی عمر میں مولوی نذیر احمد کو دیکھا تھا؟

 
 
 
 

9. مولوی نذیر احمد دہلوی کی کہنیاں کس نے صاف کرانا چا ہیں؟

 
 
 
 

10. مولوی نذیر احمد کا قرآنی ترجمہ کس نے شائع کر دیا؟

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 میں نے مولوی نذیر احمد کو صرف پانچ برس کی عمر میں آخری بار دیکھا ۔اس سے پہلے دیکھا تو ضرور ہوگا مگر مجھے بالکل یا دنہیں ۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ ہم تین بھائی انا کے ساتھ حیدر آباد دکن سے دتی آۓ تھے تو کھاری ہاؤلی کے مکان میں گئے تھے ۔ ڈیوڑھی کے آگے صحن میں سے گزر کر پیش دالان میں گئے ۔ یہاں دو تین آدمی بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے ۔ پچھلے دالان کے دروں میں کواڑوں کی جوڑیاں چڑھی ہوئی تھیں جن کے اوپر رنگ به رنگ شیشوں کے بہتے بنے ہوئے تھے ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 نواب افتخارعلی خاں والی ریاست جاورہ کے بھائی نواب سرفراز علی خاں مرحوم بہت بیمار تھے ۔ ان کے لیے طبیبوں کی کیا کمی تھی ؟ دنیا بھر کے علاج کراۓ مگر شفا نہ ہوئی۔ ایک دن انھوں نے مولوی نذیر احمد کو خواب میں دیکھا کہ ان سے کہ رہے ہیں ہمارے قرآن کا ترجمہ چھپوا لو، اچھے ہو جاؤ گے ۔‘‘ نواب صاحب نے میرے والد کو دتی خط لکھا اور اس خواب کی روداد بیان کر کے ترجمہ شائع کرنے کی اجازت مانگی ۔ والد صاحب نے اجازت دے دی اور صرف ترجمہ قرآن دو بڑی خوبصورت جلدوں میں ریاست جاورہ کے چھاپہ خانے سے شائع ہوا۔ خدا کی شان کہ نواب صاحب بالکل تندرست ہو گئے اور جب اس واقعے کے کوئی میں سال بعد میں ان سے ملا تو سترے بہترے ہو چکے تھے۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 مولوی نذیر احمد کو زمانه سازی بالکل نہیں آتی تھی ۔ سچی بات کہنے میں انھیں باک نہ ہوتا تھا۔ حیدر آباد دکن میں بڑے بڑے عہدوں پر مامور ہوئے مگر خوش کسی کو نہ کر سکے۔ اسی وجہ سے زیادہ عرصے تک وہاں نہ رہ سکے اور پنشن لے کر وتی چلے آۓ ۔ ان کے لیے غیور جنگ‘‘ کا خطاب تجویز ہوا تھا ، مگر انھوں نے قبول نہیں کیا۔ نواب افتخارعلی خاں والی ریاست جاورہ کے بھائی نواب سرفراز علی خاں مرحوم بہت بیمار تھے ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 مولوی صاحب بڑے فخر سے اپنے بچپن کے مصائب بیان کرتے تھے ۔ جس مسجد میں ٹھہرے تھے اس کا ملا بڑا بد مزاج اور بے رحم تھا ۔ کڑکڑاتے جاڑوں میں ایک ٹاٹ کی صف میں یہ لیٹ جاتے اور ایک میں ان کے بھائی ۔سات آٹھ سال کے بچے کی بساط ہی کیا ؟ علی الصباح اگر آنکھ کھلتی تو مسجد کاملا ایک لات رسید کرتا اور میلڑھکتے چلے جاتے اور صف بھی بچھ جاتی ۔اس زمانے کے طالب علموں کی طرح انھیں بھی محلے کے گھروں سے روٹی مانگ کر لانی پڑتی تھی ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 مولوی نذیر احمد بڑے غیور آدمی تھے ۔ سسرال والے خاصے مرفہ الحال تھے مگر انھوں نے اسے گوارا نہ کیا کہ سرال والوں کے ٹکڑوں پر پڑ رہیں ۔ جب ان کی شادی ہوئی تو غالباً پندرہ روپے کے ملازم تھے ۔ اس میں الگ ایک کھنڈ لالے کر رہتے تھے ۔ میں نے بڑی بوڑھیوں سے سنا ہے کہ ان کے گھر میں صرف ایک ٹوٹی ہوئی ہوتی تھی ۔ بھی بیوی ان لیتر وں کو ہانگا لیتیں بھی میاں ۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 مولوی نذیر احمد دہلوی
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 دتی کا لج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھیں کوئی سرکاری ملازمت نہیں ملی تو سخت برہم ہوۓ ۔ پرپل سے جا کر ایک دن بولے : ” مجھے سرکاری ملازمت اگر نہیں دی گئی تو آپلوں کی ڈنڈی کھولوں گا اور اس پر دیتی کالج کی سند لگا دوں گا‘‘ مگر اس کی نوبت نہیں آئی اور انھیں ملازمت مل گئی ۔
مولوی عنایت اللہ مرحوم فرماتے تھے کہ جب ہم لاہور سے دلی واپس آ رہے تھے تو ایک ہی ڈبے میں سب سوار تھے ۔سرسید احمد خاں نے کسی بات کے سلسلے میں کہا : ” مولوی صاحب! میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ آپ کے جوتے کے تھے باندھوں ‘‘ مولوی نذیر احمد کھڑے ہوئے اور تعظیما تین آداب بجالائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *