2nd Year Urdu Sabaq 11 Mawaslat k Jadeed Zaraaye MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 11

1. ٹیلی ویژن کس کی ایجاد ہے؟

 
 
 
 

2. وائرلیس کب ایجاد ہوا؟

 
 
 
 

3. سورج سے نکلنے والی مقناطیسی لہروں کو اور کیا کہا جا تا ہے؟

 
 
 
 

4. وائرلیس سیٹ کا —-ریڈیائی لہروں کو طاقت ور بنا تا ہے۔

 
 
 
 

5. سبق ’’ مواصلات کے جدید ذرائع‘‘ کا مصنف کون ہے؟

 
 
 
 

6. مسلمان حکمرانوں نے مواصلات کو کس ذریعے سے ترقی دی؟

 
 
 
 

7. ٹرانسسٹرکس کی ایجاد ہے؟

 
 
 
 

8. ٹرانسمیٹر میں ایریل کی تارلگانے سے وائرلیس کی آواز کتنی دورسنی جائے گی؟

 
 
 
 

9. پرانے زمانے میں ڈاک دور دراز کس ذریعے سے پہنچاتے تھے؟

 
 
 
 

10. موبائل فون کس کی ملی جلی شکل ہے؟

 
 
 
 

11. ہوائی جہاز اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے — سے رہبری لیتے ہیں۔

 
 
 
 

12. وائرلیس کا استعمال سب سے پہلے کس شعبے میں کیا گیا؟

 
 
 
 

13. انگریز سائنس دان ڈاکٹرفلیمنگ نے کیا چیز ایجاد کی؟

 
 
 
 

14. مسلمانوں کے قائم کردہ محکمہ ڈاک کا نام کیا تھا ؟

 
 
 
 

15. صوتی اشارے ریڈیو کے کس حصے میں داخل ہو کر آواز میں تبدیل ہوتے ہیں؟

 
 
 
 

16. ٹرانسمیٹر کے دوسرے سرے پر ۔۔۔۔۔ کا تار منسلک ہوتا ہے؟

 
 
 
 

17. ہوائی جہازوں کے آنے جانے کا علم کس ذریعے سے ہوتا ہے؟

 
 
 
 

18. پرانے زمانے میں مواصلات کا ذریعہ کیا تھا؟

 
 
 
 

19. پہلی بار تار کہاں سے کہاں بھیجا گیا؟

 
 
 
 

20. بحر اوقیانوس سے اس پار پہلا تارکب بھیجا گیا؟

 
 
 
 

21. کبوتروں کے ذریعے کتنا عرصہ پیغام رسانی کا کام لیا گیا؟

 
 
 
 

22. بصری ریشے کب ایجاد ہوئے؟

 
 
 
 

23. ۲۳۔ وائرلیس کا دالوکس چیز کی ایجاد کا پیش خیمہ بنا؟

 
 
 
 

24. سورج سے کتنی قسم کی لہر میں نکلتی ہیں؟

 
 
 
 

25. ریڈیو صوتی اشارے کس ذریعے سے پکڑتا ہے؟

 
 
 
 

26. بارڈین اور برٹین کا تعلق کس ملک سے تھا؟

 
 
 
 

27. ریڈیو کی ریڈیائی لہر یں کس کی دریافت ہیں؟

 
 
 
 

28. ٹیلی گرافی کا آلہ کس کی ایجاد ہے؟

 
 
 
 

29. وائرلیس سیٹ کا —- ریڈیائی لہروں کو آواز کی شکل میں وصول کرتا ہے۔

 
 
 
 

30. مائیکروفون کی تار کا دوسرا سرا کس سے جڑا ہوتا ہے؟

 
 
 
 

31. پہلا تار ایک جگہ سے دوسری جگہ کب بھیجا گیا ؟

 
 
 
 

32. ٹیلی گرافی کا آلہ کب ایجاد ہوا ؟

 
 
 
 

33. وائرلیس کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کے لیے کتنے سیٹ ضروری ہوتے ہیں؟

 
 
 
 

34. ریڈیائی لہروں کے وجود کی پیش گوئی کس نے کی؟

 
 
 
 

35. موبائل فون کب ایجاد ہوا؟

 
 
 
 

سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 مواصلات شروع سے انسان کی ایک ضرورت رہی ہے۔ پہلے اس کام کے لیے خط دے کر قاصد بھیجے جاتے تھے، پھر گھڑ سوار دوڑائے جانے لگے ۔ گھڑ سواروں کے ذریعے بہت دور دور تک پیغامات بھیجے جاتے تھے ۔ دور دراز تک پیغامات بھیجنے کے لیے دس دس بارہ بارہ میل پر منزلیں بنی ہوتی تھیں ، جہاں تازہ دم گھوڑے موجود ہوا کرتے تھے ۔ گھڑ سوار خطوط کا تھیلا لے کر اگلی منزل کو جاتے اور اسے وہاں کے گھڑ سوار کے حوالے کر کے واپس لوٹ آتے ۔ اگلی منزل کا گھر سوار بھی ایسا ہی کرتا ۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 تین سال بعد۱۹۰۴ء میں ایک انگریز سائنس دان ڈاکٹرفلیمنگ نے وائرلیس کے لیے ایک والو ایجاد کیا ۔اس میں خوبی میتھی کہ یہ وائرلیس سیٹ میں داخل ہونے والی ریڈیائی لہروں کو جو بہت خفیف ہوتی ہیں، طاقتور بنادیتا ہے، لہذا وہ لہریں لاؤڈ اسپیکر میں پہنچ کے پہلے کے مقابلے میں زیادہ صاف سنائی دینے لگیں ۔ والد کا آگے چل کر یہ فائدہ ہوا کہ محض کھٹ کھٹ کھڑ کھڑ‘‘ کی آوازوں کے علاوہ انسان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ یعنی گفتگو بھی سنائی دینے لگی ۔ یہی کامیابی ریڈیو کی ایجاد کا پیش خیمہ بنی ۔ جب تک صرف’’ کھٹ کھٹ کھڑ کھڑ وغیرہ کی آواز سنائی دیتی رہی ، اس وقت تک وائرلیس سیٹ کو صرف بحری جہازوں کے درمیان اشاراتی پیغام رسانی کے لیے یا ٹیلی گرافی وغیرہ کے لیے استعمال کیا جا تا رہا۔
سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔

 ریڈ یوا یجا دتو بلا شبہ مارکونی نے ہی کیا مگر ریڈیائی لہروں کو دریافت کرنے والا کوئی اور تھا اس کا نام ہرٹز تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہرٹز نے جن ریڈیائی لہروں کو دریافت کیا ، ان کے وجود کی پیشین گوئی ایک انگریز ماہر طبیعیات میکس دل نے محض اپنے نظریے کے زور پر کر دی تھی اور ان فوائد کی بھی پیشین گوئی کر دی تھی جو اس کی دریافت کے بعد اس سے حاصل ہوئے مختصر یہ کہ مارکونی کی ایجاد میکس ول کے نظریے اور ہرٹز کی دریافت کی مرہون منت ہے ۔
درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔
 مواصلات کے جدید ذرائع

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *