2nd Year Urdu Sabaq 1 Manaqib Umar bin Abdul Aziz RA MCQs Short Notes

urdu 12th sabaq No 1

1. حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے مقبرے کے لیے زمین کتنے دینار میں خریدی؟

 
 
 
 

2. حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ترکے میں کتنے دینار چھوڑے؟

 
 
 
 

3.  علامہ شبلی نعمانی نے سیرت العمرین کس ملک کے کتب خانہ میں رکھی؟

 
 
 
 

4. سیرت العمرین‘‘ کا مصنف کون ہے؟

 
 
 
 

5. حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جاگیریں عوام کو واپس کرنے کے بارے میں کن سے مشورہ کیا؟

 
 
 
 

6. ام عمر  حضرت عمر بن عبدالعزیز کی کیا لگتی تھی

 
 
 
 

7. حضرت عمر بن عبدالعزیز روزانہ کھانے کے کتنے درہم ادا کرتے تھے؟

 
 
 
 

8. حضرت عمر بن عبد العزیز عدالت کے وقت کسی سے مدد لیتے تھے؟

 
 
 
 

9.  حضرت عمر بن عبد العزیز کی جاگیریں کہاں واقع تھیں؟

 
 
 
 

10. حضرت عمر بن عبدالعزیز کے غلام کا نام کیا تھا؟

 
 
 
 

11. علامہ ابن جوزی کون تھے؟

 
 
 
 

12. بنو امیہ کے دفتر اعمال کا بدترین واقعہ کیا تھا؟

 
 
 
 

13. خلیفہ ولید بن عبد الملک کے بیٹے کے خلاف کسی نے شکایت درج کرائی؟

 
 
 
 

14. حضرت عمر بن عبدالعزیز  ترکے میں سے کتنے  دینار وارژوں میں تقسیم ہوئے؟

 
 
 
 

15. حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اپنے خاندان میں کس سے زیادہ محبت تھی؟

 
 
 
 

16. ہشام بن عبدالملک کی زکور اولا د کو تر کے سے کتنے  دینار ملے

 
 
 
 

17. حضرت عمر بن عبد العزیز کی حکومت وسلطنت کا اصل اصول کیا تھا؟

 
 
 
 

18. اولا د ذکور سے کیا مراد ہے؟

 
 
 
 

19. سبق مناقب عمر بن عبد العزيز کے مصنف کا نام کیا ہے؟

 
 
 
 

20. حمص کے عیسائی نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کیا فیصلہ چاہا؟

 
 
 
 

21. حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا میں قیامت کے سوا اور کسی —- سے نہیں ڈرتا

 
 
 
 

تفصیلی سوالات

      سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔ ایک دن عمر بن عبدالعز بر مسند خلافت پر متمکن تھے ۔ ایک عیسائی نے ، جو تمص کا رہنے والا تھا ، در بار میں آ کر می شکایت کی کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے بیٹے عباس نے میری زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے عباس کی طرف دیکھا۔عباس نے کہا ، یہ زمین مجھ کوخلیفہ ولید نے بطور جا گیر عنایت کی تھی ، چنانچہ اس کی تحریری سند میرے پاس موجود ہے ۔عمر بن عبدالعزیڑ نے عیسائی کی طرف مخاطب ہو کر کہا تم کیا جواب دیتے ہو؟ اس نے کہا ، امیر المومنین! میں خدا کی تحریر ( قرآن مجید کے مطابق فیصلہ چاہتا ہوں ۔ عمر بن عبدالعزیز نے عباس کی طرف مخاطب ہو کر کہا ،عباس! خدا کی تحریر تیرے باپ ( ولید بن عبدالملک ) کی تحریر پر مقدم ہے ۔ یہ کہ کر وہ زمین عباس کے قبضے سے نکال کر عیسائی کو دلا دی۔”
      سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔ ان کا ایک اور کارنامہ جو نہایت قابل قدر ہے ، سلاطین بنی امیہ کی ناجائز کارروائیوں کا مٹانا تھا۔ سلاطین بنی امیہ نے ملک کا بڑا حصہ، جوزمینداری کی حیثیت سے رعایا کے قبضے میں تھا، اپنے خاندان کے ممبروں کو جا گیر میں دے دیا تھا۔ جس طرح سلاطین تیموریہ کے زمانے میں بڑے بڑے صوبے شہزادوں کی جاگیر میں دے دیے جاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز تخت خلافت پر بیٹھے تو سب سے پہلے ان کو اس کا خیال ہوا لیکن ایسا کر نا تمام خاندان خلافت کو دشمن بنالینا تھا۔ تاہم انھوں نے اس کی کچھ پروانہ کی ۔”
      سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔ بنوامیہ کے دفتر اعمال میں سب سے زیادہ قوم کو بر باد کر نے والا یہ واقعہ ہے کہ انھوں نے آزادی اور حق گوئی کا استیصال کر دیا تھا۔عبدالملک نے تخت پر بیٹھ کر حکم دیا تھا کہ کوئی شخص میری کسی بات پر روک ٹوک نہ کر نے پاۓ اور جو شخص ایسا کرے گا سزا پاۓ گا ، اگر چہ اس پر بھی آزادی پسند عرب کی زبانیں بند نہ ہوئیں تا ہم بہت کچھ فرق آ گیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیڈ نے اس بدعت کو بالکل منادیا۔ دونہایت متدین اور راست بازشخص اس کام پر مقرر کیے کہ عدالت کے وقت ان کے پاس موجود ر ہیں اور ان سے جو غلطی سرزد ہوفورا ٹوک دیں ۔ان کے اس طرزعمل سے لوگوں کو عام طور پر جرات ہوگئی تھی اور لوگ نہایت بے باکی سے ان کے اقوال وافعال پر نکتہ چینی کرتے تھے۔”
      سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔ عمر بن عبد العزیز اکثر عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاں مہمان ہوتے تھے لیکن ان کے کھانے کی قیمت دے دیا کرتے تھے ۔ وفات کے وقت اپنے مقبرے کے لیے جوز مین پسند کی وہ ایک عیسائی کی تھی ۔ اس کو بلا کر خریدنا چاہا۔ اس نے کہا ، امیر المومنین! قیمت کی ضرورت نہیں ، ہمارے لیے تو یہ امر برکت کا باعث ہو گا لیکن انھوں نے نہ مانا اور میں دینار دے کر وہ زمین خرید لی ۔”
      سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔ محدث ابن جوزی نے بہ سند یہ واقع نقل کیا ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک جو خاندان بنی امیہ کا دست و بازو تھا، نے ایک گر جا کے متولیوں کے مقابلے میں دعوی دائر کیا ۔فریق مقد مہ جو عیسائی تھے ، اجلاس میں حسب قاعدہ کھڑے تھے لیکن مسلمہ کو چونکہ خاندانی زعم تھا اس لیے بیٹھ کر گفتگو کرتا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا تمھا را فریق مقدمہ کھڑا ہے اس لیے تم بیٹھ نہیں سکتے ،تم بھی اس کے برابر کھڑے ہو جاؤ یا کسی اور کو مقرر کرو جو تمھاری طرف سے مقدمے کی پیروی کرنے۔ مقدمے کا فیصلہ بھی مسلمہ کے خلاف کیا یعنی زمین متنازعہ گر جا کے متولیوں کو دلا دی ۔”
      سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔ سبق کا عنوان اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔ ایک دفعہ رات کے وقت مسجد میں گئے ۔ ایک شخص مسجد کے صحن میں لیٹا ہوا تھا۔ اتفاق سے عمر بن عبدالعزیز کے پاؤں کی ٹھوکر اس کو لگی ۔ اس نے جھلا کر کہا، کیا تو پاگل ہے؟ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ نہیں ۔ پولیس کے آ دمی موجود تھے۔ انھوں نے اس شخص کو گستاخی کی سزا دینی چاہی ۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، کیوں اس نے کیا گناہ کیا ہے؟ اس نے تو صرف استفسار کیا تھا کیا تم پاگل ہو؟ میں نے کہ دیا نہیں ۔”
      درج ذیل نصابی سبق کا خلاصہ لکھئے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجئے۔ مناقبِ عمر بن عبدالعزیز”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *